جب سیکھا قلم
پکڑنا ، تو
اس دم ہی
یہ فیصلہ کیا
کہ میں بھی
اس سے
بولنا سیکھونگی
میں اس کی نوک
پر رکھ کر
اپنی سوچ
زمانے کے
دماغوں کو
کریدوں گی
میں دیکھوں گی
کہ کتنی کاٹ
رکھتا ہے یہ
میں اپنے لفظوں
کو کبھی بھی
مرنے نہیں دونگی
میں اپنی سوچ کو
کبھی بیچوں گی نہیں
میں خیالوں سے
لوگوں کو
سوچنے کا ہنر
دے کر
اپنے آپ سے
کئے وعدے پورے
کرونگی ؛!
شمائلہ خان
Great
ReplyDelete