ساحل کی ریت پہ گر کچھ لکھو تو ہوا مٹا دے،
مگر دل کے جذبات کی لہریں باقی رہ جائیں۔
ہر حرف جو ڈوبے سمندر کی گہرائی میں،
وہ یاد بن کر موجوں کے سینے میں اتر جائے۔
لکھو تو ستاروں کی روشنی سے لکھو،
کہ رات کے سناٹے میں بھی چمک باقی رہے۔
ہر لفظ کو دریا کی لہروں سے سجاؤ،
کہ وقت کے تھپیڑے بھی اسے مٹا نہ سکیں۔
ساحل کی ریت پہ لکھو تو محبت لکھو،
کہ ہر موج اسے اپنے دل میں بسا لے۔
لکھو تو اُس کی یادوں کے نقوش اُتارو،
کہ ریت کے ذرّات بھی گواہی دیں۔
مٹ جائے لکھا ہوا، مگر اثر باقی رہے،
جیسے سمندر کے کنارے پر موجوں کا نشاں۔
ساحل کی ریت پہ لکھو تو ایسا لکھو،
کہ دل کی گہرائیوں تک اُتر جائے۔
❤️❤️❤️
ReplyDelete