Translate

Shadows And memories

 **یادوں کی پرچھائیاں**  


رات کے سناٹے میں پھر وہ چہرہ گھر آیا ہے،  

یادوں کی پرچھائیوں نے دل کو ستایا ہے۔  


ہر سانس میں اک درد، ہر لمحہ اک داستاں،  

زخموں پہ نمک چھڑکا، وقت نے لگایا ہے۔  


کب تک سناؤں میں فریادِ شبِ تنہائی،  

ہر شام مری آنکھ نے دریا بہایا ہے۔  


ہم تو تھے محبت کے دیوانے، پر دنیا نے،  

ہر عشق ! کو افسانۂ ماضی بنایا ہے۔  


No comments:

Post a Comment

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *