**غم چھلکتا ہے آنکھوں سے**
غم چھلکتا ہے آنکھوں سے، جو ٹپکا تو سیلاب ہوا،
دل کی گہرائیوں تک کوئی، کیسے پہنچا، جواب ہوا۔
ہر اک سانس میں درد سما، ہر اک لمحہ ہے زخمِ فراق،
خواب دیکھا تھا جو ہم نے، وہ بھی اک سراب ہوا۔
رات کی خامشی بول اُٹھی، چاند تارے بھی رو پڑے،
یوں بکھری میری کہکشاں، جیسے تیرا خراب ہوا۔
دل کے داغ ہیں گہرے بہت، چھپ کے روتا ہے کوئی اندر،
زندگی کے سب رنگ مٹے، صرف اک سیاہاب ہوا۔
No comments:
Post a Comment