Translate

Oh, moment.

 اے لمحے**  


اے لمحے، ذرا تھم تھم کہ تو گزر،  

کچھ دیر کو رک، یوں نہ ہو بے خبر۔  


تیری رفتار ہے بجلی سی تیز،  

ہر پل بدلتی ہے تقدیر کا نیز۔  


ذرا سا ٹھہر، اک چھوٹی سی دیر،  

کہ دل کو ملا سکوں جامِ تسلیں۔  


تیرے ہاتھوں میں ہے عمروں کی ڈور،  

ذرا سی مہربانی، ذرا اور!  


کبھی خوشی کے، کبھی غم کے سائے،  

تو لے کے آتا ہے، پل میں بہائے۔  


اے لمحے، اگر تو رُک نہیں سکتا،  

تو پھر بھی ذرا آہستہ تو چل۔  


کہ ہر اک گزرتا پل یاد بن جائے،  

کسی کے دل پہ کوئی نقش چھوڑ جائے

شمائلہ خان 

No comments:

Post a Comment

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *