اے لمحے**
اے لمحے، ذرا تھم تھم کہ تو گزر،
کچھ دیر کو رک، یوں نہ ہو بے خبر۔
تیری رفتار ہے بجلی سی تیز،
ہر پل بدلتی ہے تقدیر کا نیز۔
ذرا سا ٹھہر، اک چھوٹی سی دیر،
کہ دل کو ملا سکوں جامِ تسلیں۔
تیرے ہاتھوں میں ہے عمروں کی ڈور،
ذرا سی مہربانی، ذرا اور!
کبھی خوشی کے، کبھی غم کے سائے،
تو لے کے آتا ہے، پل میں بہائے۔
اے لمحے، اگر تو رُک نہیں سکتا،
تو پھر بھی ذرا آہستہ تو چل۔
کہ ہر اک گزرتا پل یاد بن جائے،
کسی کے دل پہ کوئی نقش چھوڑ جائے
No comments:
Post a Comment