Translate

Diary page

                    ڈائری سے ایک برگ


کھلتے ہیں لفظ مرے اس کے ورق پہ رات کو

خاموشیوں میں سنائی دیتی ہے بات کو

ہر سطر ایک سفر ہے،ہر لفظ ایک نشاں

چھپا کے رکھ دیا میں نے ہر اک آنسو کا دھاں


یہ میرا اک عکس ہے، یہ میری پہچان ہے

کھولتی ہوں جب بھی اسے،اپنی ہی داستان ہے

رازوں کی اس پناہ گاہ میں خلاؤں کے سوا

کون سُنے گا میری کہانی فَضاؤں کے سوا؟


یہ میرا ساتھی ہے میرا، یہ میرا رازداں ہے

ہر خوشی کا ترانہ،ہر دکھ کا مرہم ہے

وقت کی دھول جب چھا جائے عمر بھر کے لیے

یہ رہے گی روشنی کی ایک کرن بن کے یوں

جیسے ستارہ ٹوٹا ہو کسی کی زنبیل میں

جیسے چراغ جل رہا ہو کسی غار کی ڈھلان پہ

یہ میری خاموش گواہ،میری وفا کی امیں

شمائلہ خان 

Remembrance and evening

 سردی کی شام

سردی کی نرم سی یہ شام،
تُو یاد آیا، ہوا بھی مدھم۔
چائے کی خوشبو، خوابوں کا رنگ،
دل نے کہا، تُو پاس ہی ہے کہیں۔

دھند میں چہرہ ترا جھلکتا،
چاند بھی جیسے مسکراتا۔
کمبل میں لپٹا خیال تیرا،
دل کو پھر سے بہکاتا۔

سرد ہوا میں تیری خوشبو،
ہونٹوں پہ نام ترا آیا۔
یہ شام، یہ تنہائی، یہ دل،
بس تیرا ہی قصہ سنایا۔


Cold evening

 

سردی کی شام

ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا،
دل کو چھو کر گزر گیا۔
کہیں دھواں سا اٹھ رہا تھا،
چولہے پہ چائے پک رہا تھا۔

کمبل میں لپٹی اک کہانی،
کتنے خواب جگا گئی۔
بارش کی بوندوں نے چپکے،
یادوں کو پھر سے سجا گئی۔

دھوپ سنہری گم ہوئی ہے،
دھند نے سب منظر ڈھک دیے۔
سردی کی شام نے چپکے سے،
وقت کے گانے رک دیے۔

شمائلہ خان 

Door of knowledge

 دروازۂ علم


استاد!

آپ نے سوچ کے در کھول دیے،

اندھیروں کو اجالوں میں ڈھال دیا۔


یہ دماغ جو مقفل تھا،

آپ نے اس پر دستک دی،

اور علم کی روشنی کو اندر اتار دیا،


ہر سوال کا جواب ملا،

ہر خواب کو تعبیر ملی،

آپ ہی نے ذہن کے قفل توڑ کر

حیات کو تعبیرِ نو عطا کی۔


شمائلہ خان

My teachers

 عنوان: میرے استاد**


وہ راہِ علم کا چراغ تھے، وہ میرے استاد تھے

میں شمعِ ضیا اور، وہ میرے استاد تھے


جب زندگی کے بحرِ بیکراں میں تھی کشتی

وہ ماہِررہنما تھے، وہ میرے استاد تھے


الفاظ ان کے موتی تھے، علم ان کا خزانہ تھے

جو میرے دل کا غم جانتے،وہ میرے استاد تھے


نہ صرف کتابوں کے سبق سکھائے انہوں نے

زمانے کے سبق سکھانے والے میرےاستاد تھے


بنایا انہوں نے مجھ کو ایک انسان اچھا

سکھایا احترام،سکھائی محبت  بے حساب 


کبھی ڈانٹ، کبھی پیار، کبھی شفقت کی بارش

ہر اک طرح سے سنوارنے والے استاد تھے


وہ ہر قدم پہ دے گیا، جو علم کی روشنی

وہ زندگی بھر کے لیے میرے استاد تھے


شمائلہ خان

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *