ڈائری سے ایک برگ
کھلتے ہیں لفظ مرے اس کے ورق پہ رات کو
خاموشیوں میں سنائی دیتی ہے بات کو
ہر سطر ایک سفر ہے،ہر لفظ ایک نشاں
چھپا کے رکھ دیا میں نے ہر اک آنسو کا دھاں
یہ میرا اک عکس ہے، یہ میری پہچان ہے
کھولتی ہوں جب بھی اسے،اپنی ہی داستان ہے
رازوں کی اس پناہ گاہ میں خلاؤں کے سوا
کون سُنے گا میری کہانی فَضاؤں کے سوا؟
یہ میرا ساتھی ہے میرا، یہ میرا رازداں ہے
ہر خوشی کا ترانہ،ہر دکھ کا مرہم ہے
وقت کی دھول جب چھا جائے عمر بھر کے لیے
یہ رہے گی روشنی کی ایک کرن بن کے یوں
جیسے ستارہ ٹوٹا ہو کسی کی زنبیل میں
جیسے چراغ جل رہا ہو کسی غار کی ڈھلان پہ
یہ میری خاموش گواہ،میری وفا کی امیں
شمائلہ خان