سوگِ پشاور"
کہاں گئیں وہ کلیاں کہ جو مسکراتی تھیں؟
کہاں گئیں وہ کرنیں جن سے روشن تھی راہیں؟
کہاں گئیں وہ کتابیں،قلم، دوستیاں، امنگ؟
لپیٹ کر ایک طوفانِ نے سب کو لے لیا۔
یہ کیسی صبح آئی کہ جھلستا ہوا سماں تھا،
زمیں سہمی ہوئی،آسماں بلکتا ہوا اشکبار تھا۔
کسی نے ننھے سینوں کو نشانہ سمجھ لیا تھا،
کسی نے علم کے ہاتھوں میں قلم کے خنجرتھمائے ہیں۔
یہ المناک سناٹا، یہ سسکتی ہوئی دیواریں،
یہ بکھرے ہوئے جوتے،یہ پہلے ہوئے ہنستے چہرے۔
کسی کو ڈھونڈتی مائیں،کسی کو پکارتا باپ،
اس نے اپنی بستی میں بھی ایسا منظر دیکھا تھا؟
نہ کچھ تھا ان کے ہاتھوں میں سوائے روشنائی کے،
نہ کچھ تھا ان کے دلوں میں سوائے محبتوں کے۔
یہ کیسا جنگجو آیا جو بچوں سے ٹکرا گیا؟
یہ کیسی جنگ ہارے جو پرچھائیوں سے ڈر گیا؟
مگر اے دشمنِ انسانیت! یہ سوچ لے تو سہی،
یہ خاک جو تو نے بکھرائی ہے،اس میں بیج ہیں زندگی کے۔
جو کلی تو نے مَسلی تھی،وہ پھول بن کے کھلے گی،
جو چراغ تو نے بجھایا،وہ دہکے گا شعلۂ انتقام بن کر۔
اب اس اسکول کی ہر دیوار صدائے حق بنے گی،
ہر ڈیسک پہ کتابوں کے ساتھ عزم لکھا جائے گا۔
نہ ہارے گی یہ قومِ جوان، نہ جھکے گی یہ گردن،
یہ المیہ نہیں،اک نئی صبح کا اعلان ہے!
یہ خون نہیں، یہ فصلِ بہار کے لہو ہیں،
یہ آنسو نہیں،یہ وعدے ہیں وقت کے ساتھ بہنے والے۔
ہم سب اک ہیں،ایک روح، ایک درد، ایک سوگ میں،
مگر اس سوگ سے اک نیا عزمِ جواں جنم لے گا۔
سنا ہے وقت کے دریاؤں میں تلخی بہہ جاتی ہے،
سنا ہے راکھ کے ڈھیروں سے ہی رستہ نکل آتا ہے۔
ہم اٹھیں گے،ہم سیکھیں گے، ہم پڑھیں گے، ہم جئیں گے،
ہر کلی کے لیے اک باغِ امن ہم بسائیں گے۔
یہ نظم صرف الفاظ نہیں، ایک عہد ہے،
کہ اب کبھی نہیں آنے دیں گے ایسا اندھیرا۔
یہ بچے ہمارے ہیں،یہ مستقبل ہمارا ہے،
پشاور!تیری قربانی ہمیشہ ہمارے دل میں زندہ رہے گی۔
No comments:
Post a Comment