"دسمبر کی چپ"
اگر یہ بے رُخی چبھتی ہے۔۔
اگر کھِلتے ہر پھول پہ
کوئی پُرانا خار رُلتا ہے۔۔
اگر صبح کی نرم دھوپ بھی
تمہیں کچھ ٹھنڈی لگتی ہے
تو اے میرے دل! ذرا ٹھہر جا
یہ خالی ڈالیوں کے بیچ
بھی کوئی کلی چُھپی ہوتی ہے
یہ برف میں جمے دریا میں
بھی موجوں کا خواب ہوتا ہے
جو دن بیت گئے وہ سب کے سب
کسی یاد کے پُھول بن کر
ہی سہمی ہوئی ہوا میں کھلیں گے
جو راستہ دُھند میں گُم ہے
اسی میں نئے پتے ملیں گے
سو اے میری جان! یہ خالی صَفّحہ
کِتابِ وقت کا ورق نہیں
نئے باب کی جُھلی ہے
ابھی سے نہ کہہ کہ سب ختم ہُوا
ابھی تو سفر کی شام ہے
دسمبر بھی کٹ جائے گا۔۔
اور پھر بہار آئے گی!
No comments:
Post a Comment