آزمائش کے کئی
رنگ ہیں !!!!!
کبھی اُٹھا کر
تو ؛!!
کبھی گرا کر
کبھی چھپا کر
تو
کبھی دکھا کر
کبھی بنا کر
تو
کبھی مٹا کر
کبھی سکھا کر
تو
کبھی بھلا کر
کبھی دلاسا دےکر
تو
کبھی ٹھکرا کر
Welcome to my Urdu poetry blog! I share my feelings and experiences through the beautiful language of Urdu. Join me on this journey of expressing emotions through words. Whether you love Urdu poetry or want a glimpse into South Asian culture, my blog offers inspiration and connection through the art of poetry. Thank you!
آزمائش کے کئی
رنگ ہیں !!!!!
کبھی اُٹھا کر
تو ؛!!
کبھی گرا کر
کبھی چھپا کر
تو
کبھی دکھا کر
کبھی بنا کر
تو
کبھی مٹا کر
کبھی سکھا کر
تو
کبھی بھلا کر
کبھی دلاسا دےکر
تو
کبھی ٹھکرا کر
اک مسکان سی رہتی
جن کے چہرے پر سجی
جغرافیہ ، شہریت
یا ہو تاریخ کا علم
سب معاشرتی علوم
میں مہارت ہے بڑی
ایسی بات نہیں !!!
وہ انسان بھی ،،!!
بہت ہیں بڑی ،،
ہے ان کی بلا کی
زمانہ شناس نظر
سمجھ گئے ہیں
یہاں سب ہی ؛؛ !!!
وہ ہیں ہماری
پیاری ، دلاری ؛؛؛!
میڈم سحر
❤️❤️❤️
شمائلہ خان
بنام میڈم سحر
اے مسلم اُمہ
کچھ تو غیرت کرلو
اپنے سوئے ہوئے ضمیر
کو بیدار کرلو
اے رسول اللّٰہ
کا کلمہ پڑھنے
والوں اُٹھو کہ اک
نئی کربلا پکارتی ہے
یہ سلسلہ بھی تمام
ہوا چاہتا ہے
یہ قافلہ لبِ بام
ہوا چاہتا ہے
کریں اب وداع
کہ وقتِ رخصت
ہوا چاہتا ہے
درد کو کہہ دو
ٹہرو کی اب
قصہ تمام
ہوا چاہتا ہے
خود سے
ہی بھڑ گیا
ہوں اب
اندر جو
اپنے اتر گیا
ہوں اب
اے عمر بن الخطاب
تجھے غزہ پکارتا ہے
یا امیر المومنین
آپ کو سرزمین فلسطین
یاد کرتی ہے
اسے یاد ہے کہ
آپ آئے تھے
پکڑے اپنے گھوڑے
کی لگام کہ جس پر
تھا سوار آپ کا غلام
اے رسول اللّٰہ کی دعا
بے آب و گیاہ
خون میں میں ڈوبی
القدس کی پکار
سنبھالے آپ کے
قدموں کی آہٹ
پکارتی ہے
کہتی ہے
المدد المدد المدد
یا عمر ابن الخطاب
غلام سوچ کے
باغی کیا بنیں گے
باغی نہ بنے تو
انقلابی کیا بنیں گے
گھر چلتے ہیں جن کے
آئی ایم ایف کی ایڈ سے
ایسے کم ظرف
جہادی کیا بنیں گے
زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...