Translate

Heartache

 **میرا دل روگی**  


میرا دل روگی ہے، کیسے سنبھلوں اسے؟  

ہر لمحہ تڑپتا ہے، کیسے بہلوں اسے؟  


درد کے سائے میں گزرے ہیں دن رات میری،  

زخم ہر اک پر مگر ہے نہ کوئی مرہم میری۔  


چین نہیں ہے مجھے، نہ ہے آرام سکون،  

اک تیر سا چبھتا ہے، ہر دم میرا ہون۔  


کون سنے گا فغاں، کون پڑھے گا درد؟  

میں ہی جانوں میری کس نے کی ہے گرد۔  


ہے یہ دنیا بڑی، پر میں تنہا ہوں،  

دل کا روگ لے کے، بے چارہ ہوں۔  

Feeling of low self-esteem

 **کم مائیگی کا احساس**  


کھو گیا ہوں اپنے اندر، اک اداس سا خلا ہے،  

ہر قدم پر اک سوال، ہر جواب سے جھجک ہے۔  


لوگ کہتے ہیں "تمہارے پاس سب کچھ ہے"،  

مگر یہ دل تو خالی ہے، یہ جاں بے چین ہے۔  


کون سمجھے گا یہ اندھیرا، یہ سناٹا دل کا،  

ہر چمک دمک کے پیچھے اک گہرا سائیاں ہے۔  


ہوں نہ میں وہ جو سمجھا جاتا ہوں،  

اک تصویر ہوں، جو دکھائی تو دیتی ہے پر جیتی نہیں۔  


کبھی آئینے سے پوچھا: "میں کون ہوں؟"  

تو جواب میں خامشی کا پردہ پڑ گیا۔  


شاید ہر شخص کے اندر یہی جنگ ہے چھپی،  

ہم سبھی کچھ ہیں، پھر بھی ہم میں کچھ کمی ہے۔

Darkness

 زندگی کی شام ہوئی جاتی ہے،  

دل پہ اک دھند سی چھا جاتی ہے۔  


کتنی خواہشیں تھیں جو مر گئیں،  

رات آنکھوں میں سماجاتی ہے۔  


ہجر کے اندھیرے گھنے ہوئے،  

یادوں کی شمع بجھا جاتی ہے۔  


اب تو ہر سانس میں درد اٹھے،  

زخم دل کرپھر سے جلا جاتی ہے۔  


 اک عمر گزر گئی، سہتے ہوئے

اب تو تنہائی بھلا چاہتی ہے۔


شمائلہ خان

On the way to the desert

 دشتِ راہ میں حائل کوئی منزل نہیں ہے  

رات کے سائے ہی سائے، راہ میں اک سیل نہیں ہے  


چلنے والا ہوں میں تنہا، میرے ہمسفر کہاں  

یہ جو کھویا ہوا ہوں، اس کا کوئی سبب نہیں ہے  


ہر قدم پر تھکن ہے، ہر سفر نامکمل ہے  

میرا اپنا ہی سایہ، میرا اپنا ہی حَسب نہیں ہے  


دل کے زخم ہیں پرانے، نیا درد بھی ملا  

اب تو اس شہرِ خموشی میں بھی کوئی وَحشَت نہیں ہے  


رات بھر گرتی رہی آنکھوں پہ گردِ غمِ جاناں  

اب تو اس دھوپ میں بھی کوئی سایۂ شب نہیں ہے  


"ہم نشیں اک بار تو آ، زندگی بھر کے لیے چھوڑ  

اب تو تیرے بغیر بھی کوئی اضطراب نہیں ہے 

Oh, moment.

 اے لمحے**  


اے لمحے، ذرا تھم تھم کہ تو گزر،  

کچھ دیر کو رک، یوں نہ ہو بے خبر۔  


تیری رفتار ہے بجلی سی تیز،  

ہر پل بدلتی ہے تقدیر کا نیز۔  


ذرا سا ٹھہر، اک چھوٹی سی دیر،  

کہ دل کو ملا سکوں جامِ تسلیں۔  


تیرے ہاتھوں میں ہے عمروں کی ڈور،  

ذرا سی مہربانی، ذرا اور!  


کبھی خوشی کے، کبھی غم کے سائے،  

تو لے کے آتا ہے، پل میں بہائے۔  


اے لمحے، اگر تو رُک نہیں سکتا،  

تو پھر بھی ذرا آہستہ تو چل۔  


کہ ہر اک گزرتا پل یاد بن جائے،  

کسی کے دل پہ کوئی نقش چھوڑ جائے

شمائلہ خان 

Overflowing sadness

 **غم چھلکتا ہے آنکھوں سے**  


غم چھلکتا ہے آنکھوں سے، جو ٹپکا تو سیلاب ہوا،  

دل کی گہرائیوں تک کوئی، کیسے پہنچا، جواب ہوا۔  


ہر اک سانس میں درد سما، ہر اک لمحہ ہے زخمِ فراق،  

خواب دیکھا تھا جو ہم نے، وہ بھی اک سراب ہوا۔  


رات کی خامشی بول اُٹھی، چاند تارے بھی رو پڑے،  

یوں بکھری میری کہکشاں، جیسے تیرا خراب ہوا۔  


دل کے داغ ہیں گہرے بہت، چھپ کے روتا ہے کوئی اندر،  

زندگی کے سب رنگ مٹے، صرف اک سیاہاب ہوا۔  


Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *