Translate

Melting time

 سمے کا چکرا

جب پھیرا لگائے

سمے یونہی گزرتا جائے

چکرا گھومے ، گھومے

بس گھومے جائے

اس راز کو کوئی

پا نا  !!! پائے

چکرا گھومے 

دن گزرے ،شام آجائے

گھومے جائے تو رات ہوجائے

اک اک کرکے

سارے موتی گرتے

عمر گزرے،،

گزرے جوانی ،

پھر بڑھاپا آئے

یہ نا رکے 

بس بھاگے بھاگے

بھاگے جائے رے

اور سب سنگ 

اپنے بہائے لئے جائے

چکرا گھومے پھرے

دھواں دھواں

 دھول بن اُڑ جائے

سمے کا چکرا

گھومے گھومے جائے


شمائلہ خا

The darkness

 یہ اندھیرا جب 

تم کو نگل جائیگا

کوئی راہبر نا

تم کو نظر آئیگا

چار سو خرابا

پھیل جائیگا !!!

کوئی تدبیر بھی

کام نا آئیگی،

بولو !!!

پھر تم کو 

سمجھ آئیگا 

وحشتیں بکھری

پڑی ہونگی ہر جا

سُجائی جب نا

دیگا کوئی راستا

کہو پھر تم

کیا کر پاؤ گے

اجالا ،تم کو

ڈھونڈے سے

بھی نا مل پائیگا

تباہیاں ہی پھر

مقدر بن جائیگا

منصف نا امین 

کوئی مل پائیگا

مکرو فریب ؛!!!

ہر طرف پھیل جائیگا 

کسی منزل کا

نشاں نا مل پائیگا

تب پھر جاکر

تم کو سمجھ آئیگا

پھر تم کو 

کیا ؟ سمجھ آئیگا


شمائلہ خان

The hope of spring

 پگڈنڈی سے گزرتا

پیڑوں کے نیچے

سے گزرتا ،

زرد قالین کو

پیروں تلے کچلتا

چلا جاتا ہوں میں ،

جوتوں کے نیچے

جب سوکھے زرد

پتوں کا لبادہ

اوڑھے لیٹی دھرتی

راگنی نئی سناتی 

جسے سن کر ،

میلوں دور تک 

پھیلے بنا پتوں

کے درخت ، 

اپنا سر جھٹک کر

خشک ہوا کے سنگ

اک  آھ  بھرکے،

اک دوجے کو

دلاسا دیتے ہوئے

اگلی بہار کی

آمد کا !!!!

اپنی سوکھی شاخیں

پھیلائے رکھتے 

اور 

زرد قالین ،

 سوکھی شاخیں

سب کو

گل داؤدی گیت 

سناتا ہے

سب جینے کی

امنگ جگاتا ہے

سب کھو کر

بھی مسکراتا ہے

سوکھی ڈالیوں پر

بنا مرغابیوں کے

خالی گھونسلے

کا برفیلے موسم

میں بھی سنبھال

رکھتا ہے

امید ان کے پلٹنے کی

زندہ رکھتا ہے

December will be gone

 December passes by,


Some memories,

Some conversations,

Some dreams,

Incomplete,

Some melodies,

With their own tunes,

When you set out,

It will return,

Something or the other,

To take away,

Some shattered dreams,

Old wounds,

Some moments filled with pain,

Emotions,

Will be carried away,

With their companions,

My thoughts too,

Will echo,

I will also leave behind,

Some imprints,

Some scattered memories,

Of forgotten promises,

Of forgotten paths,

Of nights,

Those forgotten,

Those not remembered,

Some forgotten, lost,

Some incomplete,

December will pass,

And, !!!

It will return,

Once again.


-Shamaila Khan

Incomplete,

Some melodies,

With their own tunes,

When you set out,

It will return,

Something or the other,

To take away,

Some shattered dreams,

Old wounds,

Some moments filled with pain,

Emotions,

Will be carried away,

With their companions,

My thoughts too,

Will echo,

I will also leave behind,

Some imprints,

Some scattered memories,

Of forgotten promises,

Of forgotten paths,

Of nights,

Those forgotten,

Those not remembered,

Some forgotten, lost,

Some incomplete,

December will pass,

And, !!!

It will return,

Once again.


-Shamaila Khan

December will be gone

 دسمبر گزرا جاتاہے


کچھ یادیں

کچھ باتیں 

کچھ خواب

ادھورے

کچھ بیلی

سنگ اپنے

تو لئے چلا

تو پھر آئے گا

کچھ نا کچھ

لے جانے کو،

کچھ ٹوٹے پھوٹے

سپنے ، پرانے زخم

کچھ درد سے بھرے

لمحات ،جذبات

لیتا جائے گا،

ان کے سنگ

میرے خیال ،

میں بھی کسک

چھوڑ جائیگا

کچھ نقش بھی

رہ جائیں گے،

کچھ بکھری پڑی

یادوں کے ،

 بھولے وعدوں کے

راہوں کے، راتوں کے

جو بھول گئے،

جو یاد نہیں،

کچھ بھولے بسرے

کچھ ادھورے ادھورے

دسمبر تو چلا جائے گا

اور ،،!!!!

پھر لوٹ کے آئے گا


شمائلہ خان

Saiyan Way Saiyan

 وقت دی مہار

موڑ وے سائیاں

میڈی گل وی

توں سن 

وے سائیاں

کدی ہسن واری

کدی روئن واری

راھواں وچ

کدی راتاں وچ

کھیڈن نال

رسن دی

یاداں وچ

سانوں نال

لے چل سائیاں

سن میری گل

وی کدی سن

سائیاں مینوں

آس وڈی سی

توڈے کول

میڈی آھ

کدی نئی آندی

میڈے دلاں دا

حال وی کدی سن

وے سائیاں

مھار موڑ دے

موڑ دے سائیاں


شمائلہ خان

December

 In December 

The weather is very quiet

 Lives One on each side

 Depressing atmosphere 

Stays decorated

 I often him searching 

I go somewhere far away 

all thoughts, All feelings

 Take yours with you 

Of this city On the trail 

I walk away Blurred sky

 Filthy Evening 

 A tree made of leave,

 All together

 Can't find it

December

 دسمبر میں

موسم بڑا خاموش

رہتا ہے

ہر جانب اک

افسردہ سا ماحول

سجا رہتا ہے

میں اکثر اسے

کھوجتی ہوئی

کہیں دور نکل جاتی ہوں

سارے خیال،

سارے احساس

ساتھ لیکر اپنے

اس نگر کی

پگڈنڈی پر 

چلتی چلی جاتی ہوں

دھندلا سماں

ملگجی شام

بنا پتوں کے پیڑ

سب مل بھی

اسے ڈھونڈ نہیں پاتے 

Life oh life

 زندگی تجھ کو اگر وجد میں لاؤں واپس

چاک پہ کوزہ رکھوں، خاک بناؤں واپس

دل میں اک غیر مناسب سی تمنا جاگی

تجھ کو ناراض کروں، روز مناؤں واپس

وہ مرا نام نہ لے صرف پکارے تو سہی

کچھ بہانہ تو ملے، دوڑ کے آؤں واپس

وقت کا ہاتھ پکڑنے کی شرارت کر کے

اپنے ماضی کی طرف، بھاگتا جاؤں واپس

یہ زمیں گھومتی رہتی ہے فقط ایک ہی سمت

تو جو کہہ دے، تو اسے آج گھماؤں واپس

تھا ترا حکم، سو جنت سے زمیں پر آیا

ہو گیا ختم تماشہ، تو میں جاؤں واپس؟

A person in my life

 اک شخص ہے 

میری کتابِ ہستی

سے جڑا

جسے میں!!!!

بے پناہ چاہتی ہوں

ادھیڑ عمری کی

اس محبت کا

خراج ادا

نہیں کرپارہی 

وہ اداسی سے

میری باتوں کا

انتظار کرتا ہے

اور میں ہوں کہ

اسے اپنے دکھڑے

سنا کر !!!!!

اسے اور بھی

زیادہ افسردہ 

کرتی ہوں ؛

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *