آنے والا نیا سال
آپ کیلئے
خوشیوں اور
مسرتوں کا
پیغام بن کر
آئے
سدا بہار
رہے آنگن میں
کوئی پھول
کبھی نہ
مرجھائے
چہرے دمکتے
رہیں !!
ہر پل ہر لمحہ
ہر گھڑی
مسرتوں کا
ڈیرہ رہے
میری دعائیں
آپ کیلئے
ہمیشہ گلدستہ
رہیں
شمائلہ خان
آمین ثم آمین یارب العالمین
Welcome to my Urdu poetry blog! I share my feelings and experiences through the beautiful language of Urdu. Join me on this journey of expressing emotions through words. Whether you love Urdu poetry or want a glimpse into South Asian culture, my blog offers inspiration and connection through the art of poetry. Thank you!
آنے والا نیا سال
آپ کیلئے
خوشیوں اور
مسرتوں کا
پیغام بن کر
آئے
سدا بہار
رہے آنگن میں
کوئی پھول
کبھی نہ
مرجھائے
چہرے دمکتے
رہیں !!
ہر پل ہر لمحہ
ہر گھڑی
مسرتوں کا
ڈیرہ رہے
میری دعائیں
آپ کیلئے
ہمیشہ گلدستہ
رہیں
شمائلہ خان
آمین ثم آمین یارب العالمین
الوداع دسمبر
سالِ رواں کی دھوپ جھلسا گئی
پلکوں پہ جو خواب تھے بکھر گئے
وہ راستے جو چن چن کے بنائے تھے
وہ منزلیں جو ذہن میں بسائی تھیں
کچھ دھندلا گئے،کچھ مٹ گئے
دسمبر کی یہ آخری شام ہے
کچھ چہروں پہ اداسی کا دھواں ہے
کچھ آنکھوں میں نئے سورج کا نور ہے
کچھ لمحے جو ہمارے ساتھ مر گئے
کچھ یادوں کے پھول ہیں،خوشبووں بھرے
سال کا سفر کچھ یوں ہی گزر گیا
کچھ لوگ بدل گئے،کچھ لوگوں نے ہمیں بدل دیا
کچھ رشتے نئے ہوئے،کچھ پُرانے ڈھل گئے
زخم بھرے تو نہیں،پر درد کے رنگ پھیکے پڑ گئے
الوداع دسمبر، تیری برف پگھلے گی
جنوری کی ہوا نئے پن کا گیت لائے گی
چلو اٹھیں اس خاک سے،جھاڑیں یہ دھولِ ماضی
نیا صفحہ ہو مانندِآئینۂ صاف
جس میں چہرہ ہمارا نئے عزم سے جگمگائے
الوداع دسمبر، تیرا اختتام ہے آغاز
زمانے کی یہ ریت ہمیشہ سے یونہی چلتی
بہہ جائیں گے لمحے،رہ جائیں گی یادیں
نئے سورج کو سلام کر کے چلیں گے ہم۔۔۔
دسمبر تو !
پھر آگیا
کھڑکی سے جھانکتا سرد ہوا کا سفر
پت جھڑ کے برگد کی آخری پتی گرے
کچھ یادوں کے قصے کچھ اداسی کے مارے
دسمبر تو !
پھر آگیا
راتوں کو لمبی سفید دھند چھا گئی
کچے انگاروں پہ خوابوں کی بنی کہانیاں
پرانی الماری میں خوابوں کی لپٹی چابیاں
دسمبر تو !
پھر آگیا
وہ گزرے ہوئے دنوں کی کتاب کھل گئی
ہر فصل کے مرنے پہ اگنے کا وعدہ ہے
دسمبر کے برفاب میں بسنت کی آہٹ ہے
دسمبر تو !
پھر آگیا
تنہائیوں میں بھی اک سازِ سحر بجتا ہے
وہ راستہ، وہ کوچہ، وہ پرانی دیواریں
اب بھی سناتی ہیں کہانیاں پرانی یادیں
دسمبر تو !
پھر آگیا
ٹوٹے ہوئے وعدوں کے پھول بھی مہکتے ہیں
ایک نئے سورج کی پہلی کرن چمکتی ہے
دسمبر کے سینے میں ہی بسنت کی دھڑکن دھڑکتی ہے
دسمبر تو!
پھر آگیا ـ ـ ـ
شمائلہ خان
سوگِ پشاور"
کہاں گئیں وہ کلیاں کہ جو مسکراتی تھیں؟
کہاں گئیں وہ کرنیں جن سے روشن تھی راہیں؟
کہاں گئیں وہ کتابیں،قلم، دوستیاں، امنگ؟
لپیٹ کر ایک طوفانِ نے سب کو لے لیا۔
یہ کیسی صبح آئی کہ جھلستا ہوا سماں تھا،
زمیں سہمی ہوئی،آسماں بلکتا ہوا اشکبار تھا۔
کسی نے ننھے سینوں کو نشانہ سمجھ لیا تھا،
کسی نے علم کے ہاتھوں میں قلم کے خنجرتھمائے ہیں۔
یہ المناک سناٹا، یہ سسکتی ہوئی دیواریں،
یہ بکھرے ہوئے جوتے،یہ پہلے ہوئے ہنستے چہرے۔
کسی کو ڈھونڈتی مائیں،کسی کو پکارتا باپ،
اس نے اپنی بستی میں بھی ایسا منظر دیکھا تھا؟
نہ کچھ تھا ان کے ہاتھوں میں سوائے روشنائی کے،
نہ کچھ تھا ان کے دلوں میں سوائے محبتوں کے۔
یہ کیسا جنگجو آیا جو بچوں سے ٹکرا گیا؟
یہ کیسی جنگ ہارے جو پرچھائیوں سے ڈر گیا؟
مگر اے دشمنِ انسانیت! یہ سوچ لے تو سہی،
یہ خاک جو تو نے بکھرائی ہے،اس میں بیج ہیں زندگی کے۔
جو کلی تو نے مَسلی تھی،وہ پھول بن کے کھلے گی،
جو چراغ تو نے بجھایا،وہ دہکے گا شعلۂ انتقام بن کر۔
اب اس اسکول کی ہر دیوار صدائے حق بنے گی،
ہر ڈیسک پہ کتابوں کے ساتھ عزم لکھا جائے گا۔
نہ ہارے گی یہ قومِ جوان، نہ جھکے گی یہ گردن،
یہ المیہ نہیں،اک نئی صبح کا اعلان ہے!
یہ خون نہیں، یہ فصلِ بہار کے لہو ہیں،
یہ آنسو نہیں،یہ وعدے ہیں وقت کے ساتھ بہنے والے۔
ہم سب اک ہیں،ایک روح، ایک درد، ایک سوگ میں،
مگر اس سوگ سے اک نیا عزمِ جواں جنم لے گا۔
سنا ہے وقت کے دریاؤں میں تلخی بہہ جاتی ہے،
سنا ہے راکھ کے ڈھیروں سے ہی رستہ نکل آتا ہے۔
ہم اٹھیں گے،ہم سیکھیں گے، ہم پڑھیں گے، ہم جئیں گے،
ہر کلی کے لیے اک باغِ امن ہم بسائیں گے۔
یہ نظم صرف الفاظ نہیں، ایک عہد ہے،
کہ اب کبھی نہیں آنے دیں گے ایسا اندھیرا۔
یہ بچے ہمارے ہیں،یہ مستقبل ہمارا ہے،
پشاور!تیری قربانی ہمیشہ ہمارے دل میں زندہ رہے گی۔
ایسا کرتے ہیں کہ
کچھ ان کہی بات
رکھ لیتے ہیں
جو سنی نہیں دھن
وہ ساز رکھ لیتے ہیں
اور ٹہرو تو!!!!!
کچھ گزرے تھے
وہ لمحات رکھ لیتے ہیں
درمیان رکھ کر اپنے
چائے کے کپ اور مشاعرہ
اپنے سارے جذبات رکھ لیتے ہیں
کچھ خواب ادھورے
رکھ لیتے ہیں دل میں
جو بکھرے نہیں رات
وہ تارے رکھ لیتے ہیں
کچھ راستے ٹوٹے
رکھ لیتے ہیں ہاتھوں میں
جو ملی نہیں منزل
وہ سفر رکھ لیتے ہیں
کچھ نام بے آواز
رکھ لیتے ہیں ہونٹوں پر
جو ادا نہ ہوئے
وہ دعا رکھ لیتے ہیں
کچھ دھوپ چن لیتے ہیں
بارش کے قطرے سے
جو ملی ہے خلوت
وہ سحر رکھ لیتے ہیں
(شمائلہ خان)
"دسمبر کی چپ"
اگر یہ بے رُخی چبھتی ہے۔۔
اگر کھِلتے ہر پھول پہ
کوئی پُرانا خار رُلتا ہے۔۔
اگر صبح کی نرم دھوپ بھی
تمہیں کچھ ٹھنڈی لگتی ہے
تو اے میرے دل! ذرا ٹھہر جا
یہ خالی ڈالیوں کے بیچ
بھی کوئی کلی چُھپی ہوتی ہے
یہ برف میں جمے دریا میں
بھی موجوں کا خواب ہوتا ہے
جو دن بیت گئے وہ سب کے سب
کسی یاد کے پُھول بن کر
ہی سہمی ہوئی ہوا میں کھلیں گے
جو راستہ دُھند میں گُم ہے
اسی میں نئے پتے ملیں گے
سو اے میری جان! یہ خالی صَفّحہ
کِتابِ وقت کا ورق نہیں
نئے باب کی جُھلی ہے
ابھی سے نہ کہہ کہ سب ختم ہُوا
ابھی تو سفر کی شام ہے
دسمبر بھی کٹ جائے گا۔۔
اور پھر بہار آئے گی!
پت جھڑ کی یادوں والی ہوا"
پتے گرتے ہیں دسمبر کے
سناٹے میں گُونج کے سا
کوئی دُور گاؤں کی بانسری
کوئی پرانی چُپ کی بولیاں
کوئی آنکھ میں سی کے سما
آتی ہے پت جھڑ کی ہوا
تِرپتی ہوئی شام کی طرح
کِسی بُکھے دیے کی لَو سی
کھُلے بند کھڑکی کے پاس
کھڑی سوچتی ہے کہ مرے
یہ کون سا گیت گا رہا؟
یہ گِرتے ہوئے رنگ بھی
کتنے عجیب ہیں یارو
زردی میں بھی شعلے ہیں
لالی میں بھی ٹھنڈ ہے
ہر راستہ اَڈیار سا
ہر سنگِرہ گِرجے سا
سو جب یہ ہوا چلے
تو اپنے گھر لوٹ آنا
چولھے پہ چائے رکھ لینا
دُھوپ میں کمبل تان لینا
یہ سردی بھی گزر جائے گی
یہ پتے بھی اُڑ جائیں گے
پھر نئے کنور پہ نکل آئے گی
کوئی کونپل—
کوئی نئی بہار کی مُنہ زُبان کلی
دسمبر کے برفاب سینے میں
پہلے سے ہی دھڑکتی ہے۔
اے دلِ مضطرب! کسی پل تو کہیں ٹہر
کوئی تو پل ترے دھڑکنے کا انتظار کریں ہم
نہ تھمتی ہے یہ تڑپ، نہ رکتا ہے یہ سفر
کوئی تو منزلِ جاں گزار گزار کریں ہم
تری ہر چاپ پہ چراغِ وفا جلائے ہیں
کوئی تو رات تری راہ گزر کے پار کریں ہم
تری آواز پہ سمٹ آتے ہیں تمام خواب
کوئی تو خواب تری دید کے لیے تیار کریں ہم
بڑی صعوبت سے ملتی ہے چین کی کوکھ سے
وہ گھڑی جس میں تجھے اپنے کنار کریں ہم
ابھی اور تازہ ہوں درد کے تمام نشتر
ابھی اور خونِ جگر بار ہا بار کریں ہم
کسی اک لمحے کو ترا ہمسفر بنا لیں
کوئی تو لمحہ ترا لمحۂ قرار کریں ہم
زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...