**یادوں کی پرچھائیاں**
رات کے سناٹے میں پھر وہ چہرہ گھر آیا ہے،
یادوں کی پرچھائیوں نے دل کو ستایا ہے۔
ہر سانس میں اک درد، ہر لمحہ اک داستاں،
زخموں پہ نمک چھڑکا، وقت نے لگایا ہے۔
کب تک سناؤں میں فریادِ شبِ تنہائی،
ہر شام مری آنکھ نے دریا بہایا ہے۔
ہم تو تھے محبت کے دیوانے، پر دنیا نے،