Translate

Shadows And memories

 **یادوں کی پرچھائیاں**  


رات کے سناٹے میں پھر وہ چہرہ گھر آیا ہے،  

یادوں کی پرچھائیوں نے دل کو ستایا ہے۔  


ہر سانس میں اک درد، ہر لمحہ اک داستاں،  

زخموں پہ نمک چھڑکا، وقت نے لگایا ہے۔  


کب تک سناؤں میں فریادِ شبِ تنہائی،  

ہر شام مری آنکھ نے دریا بہایا ہے۔  


ہم تو تھے محبت کے دیوانے، پر دنیا نے،  

ہر عشق ! کو افسانۂ ماضی بنایا ہے۔  


Memories remain.

 **وہ دنیا سے جا چکا مگر اس کی یاد باقی ہے**  


وہ چلا گیا ہے مگر یادوں کے دھندلکے میں،  

ابھی تک گونجتی ہے اس کی باتوں کی چھنک میں۔  


کبھی ہنس کے جو کہتا تھا مجھے پیار سے،  

وہ لہجہ سا بسا ہے ہر اک خمار سے۔  


وہ گھڑی بھی گزری، وہ لمحے بھی گزرے،  

مگر دل کی گہرائیوں میں وہ چھن کے رہ گزرے۔  


نہیں وہ مگر اس کی یادیں ہیں ساتھ ہمیشہ،  

جیسے خوشبو ہو کسی پھول کی، بے جسم و بیشہ۔  


وہ دنیا سے جا چکا، مگر یادوں کے سائے،  

اب بھی زندہ ہیں میرے دل کی ہر اک رہگزر میں۔  


Oh, stop the time.

 **وقت کی دوڑ**  


اے وقت پیچھے دوڑ ذرا، رک جا تھوڑا سا،  

کچھ لمحے اور دے دے، وہ بچپن کے کھلنڈرے سا۔  


وہ صبح کی دھوپ تھی، چہچہاتی چڑیائیں تھیں،  

ماں کے ہاتھ کی روٹی، بھائیوں کی شرارتیں تھیں۔  


اب تو ہر پل بھاری ہے، ہر سانس میں دھواں ہے،  

جینے کا حوصلہ بھی، مگر دل میں دکھتا ہے۔  


وقت کے ہاتھوں مجبور، ہم سب کی کہانی ہے،  

پیچھے مڑ کے دیکھو تو، ہر اک بات افسانہ ہے۔  


دوڑتا رہتا ہے وقت، نہ تھمتا ہے نہ رکتا ہے،  

ہم بھی ساتھ دوڑتے ہیں، پر کچھ چیز چھوٹ جاتی ہے۔  


اے وقت! تو اگر چلے تو چل، مگر یاد رکھ،  

ہم نے بھی تیرے ساتھ میں، کتنے خواب سجائے تھے۔  


Separation is forever.

 **"اب کے بچھڑنا ہمیشہ کے لیے ہے"**  


اب کے بچھڑنا ہمیشہ کے لیے ہے،  

تم جاؤ گے تو سناٹا ٹھہر جائے گا۔  


ہر شام تمھاری یاد بن کے آئے گی،  

ہر صبح تیرے نام سے ڈر جائے گا۔  


راتیں وہی، مگر اندھیرا گہرا ہوگا،  

چاند بھی شاید تنہائی سے مر جائے گا۔  


زندگی کے سب رنگ مٹ جائیں گے،  

تم جاؤ گے تو زمانہ بدل جائے گا۔  

 

Borrowed life

 **زندگی ادھار**  


زندگی ادھار ہے، یہ سفر تھوڑی دیر کا،  

ہر خوشی پل بھر ہے، ہر غم ہے گہرا۔  


کبھی ہنستے ہیں، کبھی آنسو بہتے ہیں،  

یہ دھوپ چھاؤں کا کھیل ہے، جیسے سہرا۔  


ہم سب راہی ہیں، منزل ہے ایک سی،  

کوئی جیتا ہے، کوئی ہارا۔  


دن ڈھلے گا، شام آئے گی، پھر سویرا ہوگا،  

یہ وقت کا پہیا ہے، بار بار کا پیارا۔  


جو ملا، وہی قسمت تھی اپنی،  

جو گیا، وہ بھی تھا راستے کا سہارا۔  


زندگی ادھار ہے، گزار لو اسے،  

ہر لمحہ سنوار لو، یہی ہے اشارہ۔  

 ✨

Across the sky

 **آکاش کے پار**  


بہت دور کہیں آکاش پر،  

ستاروں کی چمک، خاموش سفر۔  


وہاں کون سنتا ہے دھڑکن میری،  

کون دیکھتا ہے آنکھوں کے تارے؟  


ہوا کے جھونکوں میں چھپا ہے کوئی،  

کہانیاں پرانی، خواب نئے۔  


چاندنی چادر بچھی ہے وہاں،  

تنہائی بھی ہے، مگر ہے گہاں۔  


کبھی تو وہاں سے کوئی آئے،  

میرے دل کی زبان سمجھائے۔  


بہت دور کہیں آکاش پر،  

میں بھی اڑوں، یوں خالی ہو سفر۔

Pain relief


**"دردِ لادوا"**  


دل میں اک زخم ہے جو بھرتا نہیں،  

درد لادوا ہے، یہ سہتا نہیں۔  


ہر سانس میں اک تھکن سی چھائی ہے،  

زندگی بوجھ، یہ جینا نہیں۔  


ڈھونڈا ہر اک شفا، مگر چارہ نہیں،  

یہ درد ہے جو مٹتا نہیں۔  


کب تک سہوں یہ المِ بے پایاں،  

خدا سے مانگوں وہ دوا جو ملتی نہیں۔  


The teacher's words are the student's mind.

 **استاد کی بات اور شاگرد کا دماغ**  

جو سمجھا دے تو چراغوں میں بھڑک جائے،  

وہ اک بات ہے، پر دماغ وہ جو پڑھ جائے!  


                      — ** —  


استاد جو کہے، وہ علم کی کرن،  

شاگرد اگر چانن ہو، تو سورج بن جائے!  


✍️  

(چانن = روشنی)  

😊

Teacher and student


استاد کی باتوں میں جو نور ہوتا ہے  

شاگرد کے دل میں وہ اُتر جاتا ہے  


سکھائے جو علم کی راہیں وہ رہنما ہوتا ہے  

شاگرد کی منزل کا وہ دریا ہوتا ہے  


جو بُنت گِرانی کی استاد نے بکھیری  

شاگرد کے ہاتھوں میں وہ پھول کھِل جاتی ہے  


کہتا ہے یہ دنیا، یہ زمانہ سبھی  

استاد کی محنت کبھی مَیں نہ بُھلاتا ہے  



Oh my life

 **"تجھے پکارتے ہیں"**  


تجھے پکارتے ہیں ہم، اے جانِ زندگی،  

تری خوشبو ہے ہر سانس میں رچی بسی۔  


ستارے بھی سن لیں، ہوا بھی سن لے،  

یہ دردِ دل ہے، تُو ہی تو سن لے۔  


دُکھوں کے سائے ہیں، پر روشنی بھی تو ہے،  

تیرا ہونا ہی اک اُمِّید کی کرن ہے۔  


نہیں کوئی شکوہ، نہ گلہ ہے ہمیں،  

بس تیرا ساتھ چاہیے، رہے تُو قریب۔  


ہر لمحہ تیری یاد ہے ساتھ میرے،  

تجھے پکارتے ہیں ہم، سن لے اے پیارے!  


 💖

O ! Sanam

 

صنم تیرے قدموں پہ جھکا ہے دِل ميرا،  

تُو ہے ميری رات کی آخری تارہِ صبح۔  


تيری آنکھوں میں سمندر کی گہرائی ہے،  

مگر تُو خود ہے کنارہِ صبح۔  


ہر نظر تجھ کو پُکارے، ہر سانس تيرا نام لے،  

صنم، تُو ہے ميرے وجود کی سب سے پيارى روح۔  


تُو جو مسکرا دے تو پھُول کھِل جاتے ہیں راہوں میں،  

ورنہ ہر طرف ہے اندھيرا، ہر طرف ہے سناٹا۔  


صنم، ميری محبت ہے تيرے قدموں کی دھول،  

مجھے بس اتنا سہارا دے کے جانے دے۔  



A place of learning

 **دل لگانے کی جگہ دنیا نہیں**  


دل لگانے کی جگہ دنیا نہیں،  

یہ تو اک ویراں سفر ہے جاناں۔  

ہر قدم پر دھوکے کی چھاؤں،  

ہر سُو اندھیرا ہے، روشنی نہیں۔  


کون سنتا ہے فریاد میری؟  

رازِ دل چھپائے ہیں آنکھیں ترے۔  

لوگ کہتے ہیں محبت ہے زنداں،  

میرے لیے تو یہ سزا ہے بڑی۔  


مت پوچھو کہاں گم ہوا میں،  

اک تیرا انتظار تھا، باقی سب خالی۔  

دل لگانے کی جگہ دنیا نہیں،  

یہ تو اک خواب تھا، جو ٹوٹ گیا۔  


— ****  


یہ نظم دل کی کرب، محبت میں دھوکے، اور زندگی کی بے وفائی کے موضوعات کو اجاگر کرتی ہے۔ امید ہے آپ کو پسند آئی ہوگی۔ اگر کسی اور انداز کی نظم چاہیے تو ضرور بتائیں!

The taste of death is the last breath.

 **: کل نفس ذائقۃ الموت**  


ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے،  

یہ حقیقت ہے، یہ اٹل سچائی ہے۔  


بادشاہ ہو یا فقیر گوشہ نشیں،  

سب کو اس دہلیز پہ جھکنا ہے۔  


مال و دولت، جاہ و منصب سب فانی،  

اک دن خالی ہاتھ لوٹنا ہے۔  


یہ سفر تنہا بھی طے کرنا ہے،  

کوئی ساتھی، کوئی رفیق نہیں۔  


تو بھی اس راہ پہ چلنے والا ہے،  

کیا تیاری تیرے پاس ہے؟  


(مضمون: قرآن پاک کی آیت **"کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ"** [الأنبياء: 35] سے متاثر ہو کر لکھی گئی نظم)  


**تشریح:**  

اس نظم میں موت کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ یہ ہر جاندار کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ دولت، طاقت، یا رتبہ کچھ بھی ہو، موت سے بچ نہیں سکتا۔ آخری بند میں سوالیہ انداز میں انسان کو اپنی تیاری پر غور کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

Knowing is life.

 **"جانِ جاناں"**  


جانِ جاناں تو زندگی کا حاصل ہے،  

تمھارے بغیر سب کچھ ادھورا ہے۔  


تمھاری یادوں میں گم ہوں تو لگتا ہے،  

یہی اک سکھ ہے، یہی دورا ہے۔  


تمھاری باتوں میں چھپا ہے رازِ حیات،  

تمھارا ہنسنا ہی سب سے پیارا ہے۔  


ہر اک سانس تمھیں پکارتی ہے،  

تمھارا نام ہی دل کا قرارا ہے۔  


نہیں چاہئے مجھ کو کوئی اور دولت،  

تمھارا پیار ہی میاں، سب سے انمول ہے۔  


جانِ جاناں، تمھیں پانا ہی مقصود ہے،  

تمھارے سوا دنیا بے معنیٰ ہے۔  


If it's you

 **"تم ہو تو"**  


تم ہو تو ہر اک لمحہ رنگین لگتا ہے،  

تم ہو تو خالی ہوا بھی سہانی لگتی ہے۔  


تمھاری باتوں میں چھپا ہے کوئی سحر ایسا،  

کہ خامشی بھی ترانہ بکھیرتی ہے۔  


تمھاری آنکھوں میں سمندر کی گہرائی نہیں،  

مگر وہ اک دریا ہے جو پیاس بجھاتی ہے۔  


تم ہو تو راستے بھی منزل لگتے ہیں،  

تم ہو تو دکھ بھی اک کہانی لگتا ہے۔  


نہ جانے کیوں تمھارے ہونے سے یوں لگتا ہے،  

جیسے ہوا میں خوشبو تیری بسی ہو۔  


تم ہو تو زندگی کا ہر رنگ چمک اٹھتا ہے،  

تم ہو تو موسم بھی بہار آتی ہے۔  

**  


---  

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *