Translate

Caravan of memories

 یادوں کے سائے ہیں جو چھا گئے  

دل کی گلیوں میں وہ سما گئے  

کچھ لمحے تھے جو چُھو گئے  

اور پھر ہمیشہ کے لیے رُو گئے  


وہ کہانیاں جو ادھوری رہ گئیں  

وہ خواب جو آنکھوں میں بکھر گئے  

ہر اک خوشبو، ہر اک صدا  

اب تک میرے دل کو چُھوتی ہے جیسے  


رات کے سناٹے میں جب ستارے بولتے ہیں  

یادوں کے دریا میں دل ڈوبتا ہے  

وہ لمحے، وہ مسکراہٹیں، وہ باتیں  

اب تک میرے دل کو سناتی ہیں  


کبھی کبھی لگتا ہے وہ دور نہیں  

کہیں قریب ہی ہیں، بس چُھپ گئے  

یادوں کے سائے ہیں جو ساتھ چلتے ہیں  

ان کے بغیر دل اداس رہتا ہے  


زمانہ بدل گیا، مگر دل نہیں  

وہی داستاں، وہی خواہش باقی ہے  

یادوں کے سائے ہیں جو ساتھ ہیں میرے  

ان کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔

Evening, gray shadows

 شام کے سرمئی سائے  

چھا گئے ہیں دل کے ویرانے پر  

ہوا میں ایک سکوت ہے  

جیسے وقت نے سانس روک لی ہو  


جن درختوں کی شاخیں  

اک عجیب سی تھکاوٹ لیے ہوئے  

پتے گرتے ہیں  

ایک ایک کر کے  

جیسے خواب بکھر رہے ہوں  


آسمان پر بادل  

کسی غمگین موسیقی کی طرح  

دھیمے دھیمے بہتے ہیں  

سورج کی کرنیں  

مدھم ہوتی جا رہی ہیں  

جیسے کسی کی یاد مٹتی جا رہی ہو  


میں بیٹھی ہوں  

ایک کونے میں  

دل کے اندر  

کچھ بے نام سی خواہشیں  

کچھ اداس سے سوال  

کچھ بے جواب سے جواب  


شام کے سرمئی سائے  

میرے دل کے ساتھ ساتھ  

چلتے ہیں  

اور میں سوچتی ہوں  

کیا یہ سائے ہیں  

یا میرے اندر کا سناٹا  

جو باہر اتر آیا ہے  


ہوا چلتی ہے  

اور وقت کے پنکھے  

پھر سے چل پڑتے ہیں  

شام ڈھلتی ہے  

اور میں  

اک نئے سفر کی تیاری میں  

خاموشی سے کھڑی ہوں


شمائلہ خان

Loneliness and me

 شام کی خاموشی میں،  

تنہائی کا سایہ پھیلتا ہے،  

جیسے کوئی پرانا گیت،  

دل کی گہرائیوں سے اُٹھتا ہے۔  


ہوا کے جھونکے،  

یادوں کے جال بن جاتے ہیں،  

ہر ایک چہرہ،  

ایک کہانی سناتا ہے۔  


شام کی سرخی،  

آہستہ آہستہ مٹتی جاتی ہے،  

جیسے خوابوں کی دنیا،  

حقیقت میں ڈھلتی جاتی ہے۔  


تنہائی،  

ایک ساتھی بن جاتی ہے،  

جو خاموشی سے سنتی ہے،  

ہر وہ بات جو کبھی کہی نہ گئی۔  


شام کے ستارے،  

تنہائی کے چراغ بن جاتے ہیں،  

اور اندھیرا،  

ایک نئی روشنی لے آتا ہے۔  


یہ شام، یہ تنہائی

دونوں مل کر ایک سفر بن جاتے ہیں،  

جہاں ہر قدم پر

خود کو پانے کا احساس ہوتا ہے۔  


شام ڈھلے گی، رات آئے گی

لیکن تنہائی کا ساتھ نہیں جائے گا 

کیونکہ یہ تو وہ آئینہ ہے

جس میں ہم اپنا چہرہ دیکھتے ہیں۔


شمائلہ خان 

I can't remember.


،تیرے بغیر کیسے جیئیں، یہ دل بتا نہیں پاتا

ہر سانس تیری یادوں میں، یہ حال دکھا نہیں پاتا۔  


تجھ کو بھلانے کی کوشش، ہر بار ناکام ہوتی ہے  

یہ دل تیرے خیالوں سے، پیچھا چھڑا نہیں پاتا۔  


چاندنی راتوں میں تیرا خیال ستاتا ہے 

یہ دل کسی اور کے ساتھ لگا نہیں پاتا۔  


تیری محبت کے بغیر، یہ دنیا ادھوری لگتی ہے،  

ہر چیز میں تیری کمی کا احساس بھلا نہیں پاتا


یہ دل تیرے سوا کسی کو مان ہی نہیں پاتا  

تیرے بغیر زندگی، بس اک سزا نہیں پاتا۔  


تجھ سے ملنے کی اُمید میں، ہر دم جیتا ہوں میں،  

ورنہ تیرے بغیر کبھی، دل بہلا نہیں پاتا۔  



Why do you think?

 کتنے بھولے ہو، ہر بات پر سوچتے ہو  

یہ دل کی کیسی روش ہے، کیا کیا روچتے ہو  


ہر لمحہ ایک سوال، ہر پل ایک الجھن  

خود سے ہی کیوں نبرد آزما ہوچتے ہو  


چھوڑو یہ فکر، یہ اندیشے، یہ وسوسے  

کیوں اپنے آپ کو ہی بار بار ستاتے ہو  


زندگی کو سادگی سے گزارنے کا ہنر سیکھو  

یہ پیچیدہ راستے، یہ الجھنوں کے جال بناتے ہو  


کھولو دل کا دروازہ، چھوڑ دو ہر خوف  

کیوں اپنے ہی سائے سے ڈرتے ہو، لڑتے ہو  


یہ وقت گزر جائے گا، یہ دن بھی بدل جائیں گے  

ابھی سے کیوں مایوسی کے اندھیرے چھاتے ہو  


غم کے بادل چھٹیں گے، پھر روشنی آئے گی  

کیوں اپنے دل کو ہی تاریکی میں لتاتے ہو  


جو گزر گیا، اسے بھول کر آگے بڑھو  

کیوں ماضی کے سہارے، حال کو برباد کرتے ہو  


یہ زندگی ہے، یہیں ہے، یہیں سے بنے گی  

کیوں خیالوں کے جہان میں کھو کر پچھتاتے ہو  


کتنے بھولے ہو، ہر بات پر سوچتے ہو  

یہ دل کی کیسی روش ہے، کیا کیا روچتے ہو

The scent of memories

 یادوں کے دھندلکے میں تیری صورت ابھری  

کھلتے ہوئے پھولوں سی تیری مہک تازہ ہوئی  

دل کے اندھیروں میں چمک تیری یادوں کی سی  

اک خواب سا لگتا ہے، جیسے تیرا ہونا  


ہر لمحہ تیرے بغیر اداس سا لگتا ہے  

جیسے بہاروں کے بعد خزاں کا سماں ہو جائے  

تیرے ہونے کی خوشبو ہوا میں بسی رہتی ہے  

اور تیرے جانے کے بعد یہ دل تڑپتا رہتا ہے  


تیری باتوں کی مٹھاس اب بھی دل کو بھاتی ہے  

تیرے چہرے کی رونق اب بھی آنکھوں میں چمکتی ہے  

یادوں کے سائے میں تیرا وجود جھلکتا ہے  

اور تیرے بغیر یہ دل اکثر تڑپتا ہے  


تو دور ہو کے بھی قریب ہے میرے دل کے اندر  

تیری یادوں کی چھاؤں میں میں کھو جاتا ہوں بار بار  

اک عجب سا سکون ہے تیری یادوں کے ساتھ  

تیرے بغیر بھی، تیرے ساتھ ہوں میں ہر بار۔  


یہ دل تیرے لیے دھڑکتا ہے، تیری یادوں میں کھو جاتا ہے  

تیرے بغیر یہ دنیا ادھوری سی لگتی ہے  

تیری یاد آتی ہے، اور دل پھر سے جیتا ہے  

تیرے ساتھ ہوں میں، چاہے دور ہی کیوں نہ ہوں۔

Searching for light


** روشنی کی تلاش**  


اندھیرے میں بھٹکتے ہیں، راستہ نہیں ملتا،  

ہر سمت گھٹا ٹوپ ہے، چراغ نہیں جلتا۔  

مگر دل کے اندر اک امید کی کرن،  

یہ کہتی ہے مجھ سے، ابھی منزل کھوجتا۔  


تھک کر بیٹھ جانا، تو ہار مان لوگے،  

اٹھو اور چلو، تو ستارے چن لوگے۔  

خدا کے فضل سے ہر مشکل آسان ہے،  

یہی سوچ کر چلو، ہر آزمائش آسان ہے۔  


تو ڈر کو اپنے دل سے نکال باہر کر،  

یہ زندگی ہے، اسے جینے کا ہنر سیکھ کر۔  

خدا ہر لمحہ تمہارے ساتھ ہے،  

تمہاری ہر دعا کو وہ سنتا ہے۔  


امید کی کرن کو ہمیشہ زندہ رکھو،  

خود کو کبھی مایوس نہ ہونے دو۔  

زندگی کے سفر میں ہر قدم پر روشنی ہے،  

بس یقین رکھو، خدا کی رحمت بے انتہا ہے۔  



Where did you go?


**کہاں چل دیئے**  


کہاں چل دیئے وہ لوگ، جو تھے ہمارے ساتھ،  

دلوں میں بسے تھے، جیسے کوئی خوابوں کا ساتھ۔  

راستے بدل گئے، منزلیں رہ گئیں ادھوری،  

یادوں کے دھندلکوں میں کھو گئی ہر کہانی۔  


کبھی ہنس کے بولتے تھے، کبھی خاموشی چھا جاتی،  

اب وہ لمحے بھی گزر گئے، جیسے ہوا میں گم ہو جاتی۔  

کہاں چل دیئے وہ دن، وہ راتیں، وہ باتیں،  

زمانہ بدل گیا، مگر دل کی تڑپ نہ جاتی۔  


چلو، اب بھی یادوں کے سہارے جی لیتے ہیں،  

دلوں میں بسائے ہوئے لوگوں کو پیار دیتے ہیں۔  

کہاں چل دیئے وہ، یہ سوال رہ جاتا ہے،  

مگر زندگی کا سفر تو اب بھی چلتا رہتا ہے۔  


وہ راستے، وہ نشانیاں، وہ چہرے، وہ جگہیں،  

سب کچھ تو ہے مگر نہیں ہیں وہی پہلے والی سیہیں۔  

وقت کے ساتھ سب بدل گیا، مگر دل کی گہرائیوں میں،  

وہ یادیں زندہ ہیں، جیسے کوئی چراغ جلتی ہوئی۔  


کبھی کبھی خیال آتا ہے، کاش وہ لوٹ آئیں،  

وہ مسکراہٹیں، وہ باتیں، وہ لمحے دوبارہ آئیں۔  

مگر زندگی تو بہتی ندی ہے، پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتی،  

ہمیں بھی چلنا ہے، نئے خوابوں کو سینے سے لگا کر۔  


— شمائلہ خان ----

I remembered you as evening fell.

 رات کے سناٹے میں تیری یاد، ستاروں سے بات کرتی ہے  

دل کی گہرائیوں میں تیرا خیال، موج بن کر اُچھلتا ہے  


تیرے بغیر ہر لمحہ، اک عذاب سا لگتا ہے  

تیری محبت کی چھاؤں میں، دل کو سکون ملتا ہے  


یادوں کے دشت میں تیرا نقش، ہر سو بکھرا ہوا ہے  

تیرے بغیر زندگی، اک اداس سفر لگتا ہے  


شام ڈھلے تیری یاد آئی، دل پھر بےقرار ہو گیا  

رات کے سائے میں تنہائی، اک نئے انداز میں ڈھل گیا


تیری آنکھوں کی گہرائی میں، دل ڈوبتا چلا گیا  

تیرے ہونٹوں پہ مسکراہٹ، دل کو اپنا بنا گیا  


تیرے قدموں کی آہٹ سے، دل کی دھڑکن تیز ہو گئی  

تیری محبت کی چھاؤں میں، زندگی نے رنگ بدلے  


تیرے بغیر ہر لمحہ، اک سزا سا لگتا ہے  

تیری یادوں کے سائے میں، دل کو تسلی ملتی ہے  


رات کے سناٹے میں تیری یاد، ستاروں سے بات کرتی ہے  

دل کی گہرائیوں میں تیرا خیال، موج بن کر اُچھلتا ہے

Solitude evening and tea

 تنہائی کی شام میں، چائے کا پیالہ تھام کر،  

خاموشی کے سائے میں، دل کی بات سناتا ہوں۔  


ہوا کے جھونکے آتے ہیں، پرانے قصے لاتے ہیں،  

یادوں کے دریا میں، کھو جاتا ہوں، ڈوب جاتا ہوں۔  


چائے کی خوشبو سے، لمحے بھر کو جی اٹھتا ہوں،  

تنہائی کے اندھیرے میں، روشنی سی پاتا ہوں۔  


ہر قطرہ چائے کا، ایک کہانی سناتا ہے،  

دل کے زخموں پر، مرہم سا لگاتا ہے۔  


شام ڈھلے، ستارے چمکیں، تنہائی گہری ہو،  

چائے کے ساتھ میں، اپنے آپ کو پہچانتا ہوں۔  


یہ لمحہ، یہ سکون، یہ خاموشی کی بات ہے،  

تنہائی شام اور چائے، میری روح کی غذا ہے۔

Will forget you.

 ہاں، ہم بھول جائیں گے تمہیں، یہ بھی ایک دن آئے گا  

تمہاری یادوں کے سائے بھی دھندلائے جائیں گے  


وہ لمحے، وہ باتیں، وہ مسکراہٹیں سب مٹ جائیں گی  

تمہارے نام کے ساتھ دل کا رشتہ بھی کٹ جائے گا  


تمہاری خوشبو بھی ہوا کے دوش پر اڑ جائے گی  

تمہارے خواب بھی آنکھوں سے جیسے چھن جائیں گے  


مگر ابھی تو ہم تمہیں بھولے نہیں، ابھی تو یاد ہے  

تمہاری باتوں کا ذائقہ، تمہاری چاہت کا سماں  


ہاں، ہم بھول جائیں گے تمہیں، مگر ابھی نہیں  

ابھی تو تم ہو ہمارے دل میں، ابھی تو تم ہو ہمارے دم میں  


شاید یہ وقت بھی گزر جائے، یہ درد بھی مٹ جائے  

مگر تمہاری یادوں کا سفر ابھی تو ختم نہیں ہوا۔

Memories haunt.

 یوں تو ہر پل تیری یادیں ستاتی ہیں  

دل کو چھو لیتی ہیں، راتوں کو جگاتی ہیں  


تیرے بغیر ہر سانس اداس لگتی ہے  

تیری محبت کے بغیر زندگی بے رونق لگتی ہے  


تیرے خیالوں میں کھو جاتا ہوں ہر دم  

تیری یادوں کے سائے میں رہتا ہوں ہر لمحہ  


تیری مسکان کی روشنی دل کو چمکاتی ہے  

تیری محبت کی گرمی روح کو تازگی بخشتی ہے  


تیرے بغیر ہر لمحہ اداس لگتا ہے  

تیری محبت کے بغیر زندگی بے کیف لگتی ہے  


تیری یادیں دل کو چھو جاتی ہیں  

تیری محبت کی خوشبو روح کو مہکاتی ہے  


تیرے بغیر ہر پل اداس لگتا ہے  

تیری محبت کے بغیر زندگی بے معنی لگتی ہے

Oh, ignorant heart!

 دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے  

یہ کیسی آگ سی لگا دی ہے  


تیرے بغیر ہر اک لمحہ  

ایک عذاب سا بنا دی ہے  


یہ دل جو تیرا ہو گیا ہے  

اب اپنا سا نہیں رہا ہے  


تیری یادوں کے سائے میں  

ہر اک خیال تیرا ہو گیا ہے  


نہ تو کوئی اور دکھائی دے  

نہ کوئی بات ہی بھائی دے  


یہ عشق ہے یا کوئی جنون  

مجھے سمجھ نہیں آتا ہے  


دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے  

یہ کیسی آگ سی لگا دی ہے

Without you

**جاناں**  

جاناں، تیرے بغیر یہ دل اداس رہتا ہے،  

تیری یادوں کے سائے میں ہر دم بسا رہتا ہے۔  

تیری آنکھوں کی گہرائی، میرے خوابوں کا سماں،  

تیرے بغیر ہر پل، یہ دل بے چین رہتا ہے۔  


جاناں، تیری محبت میرے دل کی دھڑکن بن گئی،  

تیرے بغیر ہر سانس ادھوری سی لگتی ہے۔  

تیرے نام کے بغیر ہر شعر اداس ہے،  

تیرے وجود کے بغیر یہ دنیا بے رونق ہے۔  


جاناں، تو ہی میری ہر خوشی کی وجہ ہے،  

تیرے بغیر ہر لمحہ بے معنی سا لگتا ہے۔  

تو میرے دل کی دھڑکن، تو میری جان ہے،  

تیرے بغیر یہ دل کبھی سکون نہیں پاتا ہے۔  

Moonlit night


چاندنی رات کی چاندنی**  

چاندنی رات کی چاندنی، دل کو چُھو جائے،  

ستاروں کی جھلمل، خواب سجائے۔  

ہوا کے جھونکے، خوشبو لے کر آئے،  

یہ راتِ دلنواز، ہر غم بھلائے۔  


درختوں کے سائے، چپکے سے کہیں،  

چاند کی روشنی، دل میں اتر جائے۔  

یہ کیسا سکون ہے، کیسی تسلی،  

جیسے دل کی گہرائیوں میں اتر جائے۔  


یہ رات ہمیں یاد دلاتی ہے،  

کہ ہر اندھیرے کے بعد اُجالا آئے۔  

تو پھر کیوں ڈرے دل، چھوٹے سے غم سے،  

جب چاندنی رات کی چاندنی ساتھ ہو جائے۔  


The light of worship

 عبادت وہ نور ہے جو دل کو جگاتا ہے،**  

**یہ روح کو پاک کرتا ہے، وجود کو سنوارتا ہے۔**  

**ہر سجدہ ایک نئی منزل کی طرف لے جاتا ہے،**  

**عبادت ہی تو ہے جو انسان کو خدا سے ملاتا ہے۔**



**عبادت کی راحت کا کوئی مول نہیں،**  

**یہ دل کو سکون دیتی ہے، روح کو ٹھنڈک پہنچاتی ہے۔**  

**ہر دعا ایک نئی امید لے کر آتی ہے،**  

**عبادت ہی تو ہے جو زندگی کو روشن کرتی ہے۔**



**عبادت وہ دریا ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں،**  

**ہر موج اپنے ساتھ رحمت لاتی ہے۔**  

**ہر سجدہ ایک نئی قربت کا احساس دلاتا ہے،**  

**عبادت ہی تو ہے جو دل کو خدا سے جوڑتی ہے۔**



**عبادت کی راتوں میں چاندنی بکھرتی ہے،**  

**ہر دعا ایک نئی امید لے کر آتی ہے۔**  

**ہر سانس میں ذکرِ الٰہی کی مہک بسی ہے،**  

**عبادت ہی تو ہے جو روح کو جگاتی ہے۔**


**عبادت وہ راستہ ہے جو جنت تک لے جاتا ہے،**  

**ہر قدم پر رحمتِ الٰہی کا سایہ ہوتا ہے۔**  

**ہر سجدہ ایک نئی قربت کا احساس دلاتا ہے،**  

**عبادت ہی تو ہے جو دل کو خدا سے ملاتا ہے۔**


Moonlight of sorrow

 دکھ کی چاندنی**  


دکھ کی چاندنی راتوں میں،  

تنہائی کے سائے گہرے ہیں۔  

ہر سانس میں ایک کہانی چھپی ہے،  

ہر آنسو میں ایک زخم بھرا ہے۔  


یہ دکھ کا سفر ہے، لمبا اور اداس،  

ہر قدم پر خامشی کا ہجوم ہے۔  

مگر ان گہرائیوں میں چھپا ہے،  

ایک امید کا دیا، جو روشن ہے۔  


دکھ ہمیں سکھاتا ہے،  

کہ ہر رات کے بعد ایک صبح آتی ہے۔  

ہر زخم کے نیچے،  

ایک نئی طاقت چھپی ہوتی ہے۔  


تو آج اگر دکھ کا سایہ ہے،  

تو کل خوشیوں کی بارش ہوگی۔  

یہی تو ہے زندگی کا سبق،  

کہ ہر دکھ کے بعد، ایک نئی روشنی ہوگی۔  


Shadows of memories

 تمھاری یادوں کے سائے میں جیوں یا مر جاؤں،**  

**یہی سوچتا ہوں دل میں، سحر ہو کے دیکھا۔**  


**وہ بات جو لب پر نہ آ سکی، دل ہی دل میں رہ گئی،**  

**ہزاروں آرزوئیں تھیں، جو خوابوں میں کھو کے دیکھا۔**  


**نہ جانے کیوں تیرے بغیر یہ دنیا اداس لگتی ہے،**  

**ہر اک رُخ کو تیرے ہی چہرے سے جوڑ کے دیکھا۔**  


**یہ دل جو تیرے نام سے دھڑکتا ہے ہر دم،**  

**اسی کو سہارا بنا کے، سفر ہو کے دیکھا۔**  


**"محبت" وہ دریا ہے جو رکتا نہیں کبھی،**  

**اسے ہر حال میں بہتے ہوئے پار ہو کے دیکھا۔**


Your drowning

 میں اور 

میری گیلری 

وہاں رکھی

میری کرسی

اور چھوٹی سی 

میز اور اس پر 

رکھی کتابیں،

ڈائری اور قلم

سامنے وسیع 

اور کشادہ آسمان

اور ڈھلتی شام 

اس منظر میں

گم میں اور

میرا چائے کا کپ

منتظر ہیں تیرے

ڈوبنے کے ، اور

نارنجی روشنی کو

اپنی آنکھوں میں 

کشید کرنے کیلئے

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *