Translate

If you were with me

 **تم ساتھ ہوتے اگر...**  


تم ساتھ ہوتے اگر، تو ہر لمحہ سہانا ہوتا،  

تنہائی کے اندھیرے میں بھی چراغ جلتا ہوتا۔  


تم ساتھ ہوتے اگر، تو ہر درد گوارا ہوتا،  

زخم بھی پھول بن جاتا، یوں خوشبو اڑتا ہوتا۔  


تم ساتھ ہوتے اگر، تو ہر راستہ آسان ہوتا،  

منزل کی دوری بھی شاید کوئی فاصلہ نہ ہوتا۔  


مگر اب تو تم بھی نہیں، بس یادوں کا سہارا ہے،  

دل کی ہر دھڑکن میں تمہارا ہی اک اِکرارا ہے۔  


✍️ 

Eid-ul-Fitr

 # **عید الفطر کی آمد**  


زرق برق لباس سجائے ہوئے،  

چمک رہے ہیں گھر بنائے ہوئے۔  

ماہِ صیام کی رُتوں کے بعد،  

آئی ہے عید خوشیوں کے ساتھ۔  


نئے کپڑے، نئی خوشبوئیں،  

دل میں اُتر رہی ہیں رس گھول کر۔  

بچے مسکرا رہے ہیں جھوم کر،  

مِل رہا ہے سب کو پیار بھرپور۔  


عیدگاہوں میں صفوں کی قطاریں،  

لب پہ تسبیح، دل میں اِقرار۔  

اللہ کی رحمت برس رہی ہے،  

ہر طرف چھائی ہے برکت پیاری۔  


مٹھائیوں کی خوشبو ہر طرف،  

گھر گھر میں محفل ہے دیدار کی۔  

عید ہے وصل کا پیغام لے کر،  

مل بیٹھو سب، ہے یہ اِختصار کی۔  


**— ختم شد —**  


امید ہے یہ

 نظم آپ کو پسند آئی ہو گی! عید الفطر کی مبارک باد! 🎉✨

Eid joys

 **عید کی خوشیاں**  


چمکتی دھوپ، ہوا خوشبوؤں بھری،  

گھر گھر میں مسکراہٹیں ہیں پیاری پیاری۔  


بچوں کے چہرے پہ شوخیاں سجی ہیں،  

نیا لباس ہے، جھولیں بھی بھری ہیں۔  


ملتے ہیں سب گلے ایک دوسرے سے،  

مٹ جاتے ہیں تمام غم ٹوٹے دل سے۔  


کھجوروں کی مٹھاس، شیرینی کا رس،  

عید کی رونق، ہر دل میں ہے ترس۔  


یہ تہوار ہے پیار و اتحاد کا،  

خدا کرے ہر گھر میں ہو آباد کا۔  


🎉 **عید مبارک!** 🎉  

😊

Eid celebrations

 **عید کی چہل پہل**  


چمکتی صبح ہے آئی عید،  

خوشیوں کی ہے یہ دھوم سجی۔  

گھروں میں مہک ہے میٹھی سی،  

سجاوٹ ہے ہر اک کو نئی۔  


بچوں کے چہرے ہنستے ہیں،  

نیا لباس ہے سب نے پہنا۔  

عیدی کا انتظار ہے دل میں،  

کھلونوں کی ہے دنیا بھری۔  


ملتے ہیں سب گلے لگ کر،  

محبتوں کے تحفے ہیں بانٹے۔  

کھیر پوری کی خوشبو سے،  

ہر گھر میں عید کی رونق سجی۔  


چاند رات کی چمک تھی جیسی،  

آج عید کی چہل پہل ہے۔  

دل بہل جائیں سب کے اے دوست،  

یہ دن تو آنے والی پل ہے۔  


🎉 **عید مبارک!** 🎊

The silence of the moonlit night

 **چاند رات**  


چاند رات آئی ہے، چہک اٹھی ہے فضا،  

روشنی کی چادر میں لپٹا ہے جہاں۔  

ستاروں کی مٹھی ہاتھ میں لے کر،  

سجایا ہے افق کو سحر کے دیں۔  


ہر طرف خوشیوں کی ہے رونق ابھی،  

دل میں امنگ، آنکھوں میں ہے خواب سجا۔  

گھر گھر میں چراغاں، دل میں ہے نور،  

عید کی یہ ساعت ہے بے مثال۔  


چاند تیری کرنوں میں ہے پیغام پوش،  

ہر ذرہ چمک اٹھا تیرے نام سے۔  

دنیا بھر کے دکھوں کو بھلا کر آج،  

مسکرا دے سب کو تیری ضو سے۔  


اے چاند! تُو دیکھے گا کل صبح کے،  

ہم سب کے لب پر ہوگی عید کی دعا۔  

خوشیاں بانٹتے پھریں گے گلیوں میں،  

مٹ جائے گی ہر غم کی دھوپ چھاؤں۔  


✨ *عید مبارک!* ✨

Happy Eid!

 **عید کی چوڑیاں اور نئے کپڑے**  


چمکتی چوڑیاں ہاتھوں میں سجیں،  

رنگ برنگے، کھنکتی ہیں۔  

نیلے، گلابی، سبز اور پیارے،  

عید کی خوشیاں لے کر آئیں۔  


نئے کپڑے پہن کر چھوٹی سی سجی،  

جھومتی آتی ہے گلیوں میں خوشی۔  

ماں نے لال رومال سر پر رکھا،  

ابّا نے دیے میٹھے پیسے بھی۔  


مہکتی ہے خوشبو میٹھے سویوں کی،  

گھر گھر مسکراتے چہرے ہنسی کے۔  

ملتے ہیں گلے سب رشتے داروں کے،  

عید ہے محبت، اتحاد کی ضیافت۔  


چاند رات سے ہی چھائی ہے رونق،  

آج تو جگمگاتا ہے ہر اک گھر۔  

اللہ نے دی ہے یہ عظیم نعمت،  

منائیں عید ہم سب مل کر!  


✨ **عید مبارک!** ✨  


(یہ نظم بچوں کے لیے سادہ اور رواں انداز میں لکھی گئی ہے، جس میں عید کی رونق، خوشیاں اور روایتی عناصر جیسے چوڑیاں، نئے کپڑے، اور میٹھائیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔)

Happy Eid Al-Fitr

 **عید کی خوشیاں اور تیری یاد**  


چمکتی صبح ہے، عید کا دن سہانا،  

مگر دل ہے اداس، ترا انتظار ہے۔  


ہر طرف رنگ ہی رنگ، خوشیوں کی رونقیں،  

مگر میری نگاہوں میں اک تیرا خیال ہے۔  


کھلے ہیں سب کے لب پہ مسکراہٹیں پیاری،  

مگر میری زباں پہ ترا ہی نام ہے۔  


دنیا بھر کی خوشیاں ملیں مجھ کو آج بھی،  

مگر وہ چاند سا چہرہ، وہ بات یاد ہے۔  


عید کی رات بھی آئی، چاند بھی نکلا،  

مگر تیرے بغیر یہ دن بھی اجنبی ہے۔  


ہر طرف اُجڑی خوشی، ہر سُو ویرانی،  

کیونکہ عید کی خوشی میں تُو ہی شامل نہیں۔  


کاش ہوتا تُو یہاں، بانٹتا میری مٹھائی،  

پھر تو جیتے جی عید ہو جاتی میری۔  


**— ختم شد —**  

امید ہے یہ نظم آپ کو پسند آئےگی! 

عید مبارک! 

💖

Naat e Rasool

 **نعت رسول مقبول صلی *اللّٰہ ** علیہ وآلہ وسلم***  


**.**  

محبوبِ ربِّ العالمین، نورِ ازل تھا جو  

پیغامِ حق لے کر آیا، وہ رسولِ مقبول تھا  


**.**  

رحمت بنا کر بھیجا، سرکارِ دو عالم کو  

ہر دَور میں آپ کی ذات، مرجعِ اہلِ دل تھی  


**.**  

چاند سے روئے انور، شبنم سے نرم اخلاق  

ہر بات میں اسوۂ کامل، وہ جمالِ مطلق تھا  


**.**  

مدحت کروں کیسے میں، اُس ذاتِ پاک کی  

لفظوں میں کیسے سماؤں، وہ بحرِ بے کنار تھا  


**.**  

صلیٰ اللّٰہ علیہ  وسلم، ہر دم رہے درود بھیجا  

آپ کی عظمت پہ لاکھوں، قربان میرا دل تھا  


**.**  

دنیا و دین کے تھے آپ، راہنما اور رہبر  

باطل کے سامنے سینہ، تیغِ بے نیام تھا  


**.**  

اے شافعِ روزِ جزا! ہم گنہگاروں پہ نظر  

ہم کو بھی اپنے در سے، پھر کوئی نہ محروم رکھنا  


**آمین یا رب العالمین!**  


---  

یہ نعت حضور نبی اکرم ﷺ کی عظمت، رحمت اور آپ کے اسوۂ حسنہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آپ ﷺ کی سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Shadows of memories

 تیری یادوں کے سائے میں کھو گیا ہوں دل،  

ہر لمحہ تیرے خیال کی روشنی سے جلتا ہے۔  


تیرے بغیر زمانہ اداس سا لگتا ہے،  

ہر سانس تیرے انتظار میں ڈوبتی ہے۔  


تیری باتوں کی مہک ہوا میں بسی ہے،  

تیرے خوابوں کی چھاؤں دل کو چھوتی ہے۔  


تیری یادوں کے سائے ہی میرے ساتھ رہتے ہیں،  

تیرے بغیر یہ دل تنہا سا روتا ہے۔  


کاش تو واپس آئے اور یہ فاصلے مٹ جائیں،  

تیری محبت کے بغیر یہ دل ادھورا سا لگتا ہے۔

Heartless


دل ناداں پھر وہی غلطی کر بیٹھا  

رات بھر تیری یادوں میں گھر بیٹھا  


---


دل ناداں کو سمجھائے کون  

یہ تو ہر بار ٹوٹ جائے کون  


---


دل ناداں تیرے پیار میں کھو گیا  

اب تو خود کو بھی بھول گیا  


---


دل ناداں تیری چاہت میں ڈوب گیا  

اب تو ہر درد کو لبھا گیا  


---


دل ناداں کو یہ کیسے سمجھائوں  

کہ تیرے بغیر بھی جینا آئے  


Happy feeling


**خوشبوئے دل**  

ہوا کے دوش پہ سوار آتی ہے،  

یہ خوشبوئے دل، یہ پیار آتی ہے۔  


چمن چمن پھولوں کی مہک اٹھی،  

دلوں میں ایک سرور سا چھا گیا۔  


ہنسی کے موتی بکھرے ہر طرف،  

یہ کیسا نور ہے، یہ کون سا عجب؟  


آنکھوں میں خوابیدہ خوشیاں جاگیں،  

دل کے تاروں پہ نغمے رس گائیں۔  


یہ لمحہ، یہ احساس، یہ اطمینان،  

جیسے ہو دل پہ رب کا خاص احسان۔  


خوشیوں کے موسم نے گھیرا ہے ہمیں،  

یہ خوش گوار لمحے ہیں زندگی کے مقدر ہمیں۔  



Moments gone by


**لمحہ**  

لمحہ گزرتا ہے پر چھوڑ جاتا ہے،  

ایک خوشبو سی دل میں بساتا ہے۔  

کچھ یادوں کے نقوش چھپا لے جاتا ہے،  

کچھ خوابوں کو ہستی میں جگاتا ہے۔  


ہر لمحہ ایک کہانی سناتا ہے،  

خوشی ہو یا غم، سب بتاتا ہے۔  

گزرے ہوئے کل کو یاد دلاتا ہے،  

آنے والے کل کا انتظار سکھاتا ہے۔  


یہ لمحہ ہے جیسے دریائے وقت کی لہر،  

جو آتی ہے اور چلی جاتی ہے پر اثر چھوڑ جاتی ہے۔  

کبھی مسکراہٹوں کے پھول کھلاتا ہے،  

کبھی آنسوؤں کے موتی پرو دیتا ہے۔  


یہ لمحہ ہے جیسے چراغِ راہِ حیات،  

جو روشنی دیتا ہے، راستہ دکھاتا ہے۔  

کبھی تاریکیوں کو چیرتا ہے،  

کبھی امیدوں کے دیے جلاتا ہے۔  


تو لمحے کو تھام لو، اسے ضائع نہ کرو،  

ہر پل کو قیمتی سمجھو، اسے بے کار نہ کرو۔  

کیونکہ وقت کی رفتار ہے تیز،  

ہر لمحہ ہے زندگی کا ایک انمول تحفہ خاص۔  


لمحہ ہے وہ موتی جو ہاتھ سے پھسل جائے،  

پھر کبھی واپس نہ آئے، کبھی نہ مل پائے۔  

اسے سنوارو، اسے سنبھالو،  

کیونکہ یہی ہے زندگی کا اصل سرمایہ۔  


لمحہ ہے وہ سازِ دل جسے بجانا ہے،  

ہر سُر کو محبت سے گانا ہے۔  

خوشی ہو یا غم، سب کو گلے لگانا ہے،  

کیونکہ یہی ہے زندگی کا اصل فسانہ۔  

Chain of memories

 یادوں کی زنجیر

، دل کے تاروں سے بندھی ہوئی،  

ہر ایک لمحہ، ایک کہانی بن گئی۔  


کبھی مسکراہٹیں، کبھی آنسوؤں کے موتی،  

یہ زنجیر، زمانے کی ریت میں گھری ہوئی۔  


پرانی یادیں، نئے خوابوں کے سائے،  

دل کے دَر و دیوار پہ نقش ہیں بنے ہوئے۔  


کھو جاؤں تو ان میں، پا لوں تو خوشبو،  

یہ زنجیر، میرے وجود کی ہر سانس میں بسی ہوئی۔  


کبھی دوری کے اندھیرے، کبھی وصل کی روشنی،  

یہ زنجیر، ہر رنگ میں ڈوبی ہوئی۔  


یادوں کی زنجیر، ٹوٹے نہ کبھی،  

یہ میرے دل کی دھڑکنوں سے جُڑی ہوئی۔

Great Singapore


**Salute to the Workers of Singapore**  


Your hard work makes this city shine,  

Your sweat makes it sparkle and gleam,  

Your hands lift it to great heights,  

Your determination makes it proud on the global stage.  


From the first ray of dawn to the stars of the night,  

Your journey of labor is endless and true,  

From the heights of construction to the cleanliness of the streets,  

Every task you do is unparalleled.  


In your hands lies the building of the future,  

This city is adorned with your dreams,  

It shines in the world because of your dedication,  

It glows because of your hard work.  


Salute to the workers of Singapore,  

Without you, this city is incomplete,  

Your determination, your hard work, your passion,  

This city shines because of you.  


Salute to your spirit,  

Salute to your hard work,  

Salute to your determination,  

Salute to the workers of Singapore


Shumaila Khan 

Voice against injustice

 باغی ہوں، بغاوت پہ اتر آیا ہوں  

یہ دل ہے کہ چٹانوں سے ٹکرانے آیا ہوں  


نہ ڈر ہے زنجیروں کا، نہ خوفِ جہنم  

حق بات کہنے پہ اب تو عیاں ہونے آیا ہوں  


یہ راستہ دشوار ہے، مگر اپنا ہے  

ہر موڑ پہ ظلمت کو للکارنے آیا ہوں  


کٹے گی گردن، مگر جھکے گا نہ سر  

یہ عہدِ وفا ہے، میں نبھانے آیا ہوں  


خدا کے لیے اب نہیں ڈوبنے والا  

سمندر سے اپنا سفینہ نکالنے آیا ہوں  


یہ آگ جو سینے میں ہے، بجھنے نہیں دیں گے  

ہر شعلہ بنا کر چراغ لےآیا ہوں  


"باغی" ہوں، مگر یہ بغاوت ہے انصاف کی  

ہر  ظلم  کے خلاف  صدادے آیا ہوں۔


شمائلہ خان

The revolution is coming.


جب خون بہتا ہے تو انقلاب آتا ہے 

یہ خاک اُٹھتی ہے، یہ دھرتا جگتا ہے۔  

ہر قطرہ سرخ ہے ایک دریا بن جاتا ہے،  

جب خون بہتا ہے تو انقلاب آتا ہے۔  


یہ خون ہے شہیدوں کا، یہ رنگ ہے حریت کا،  

یہ نعرہ ہے عدالت کا، یہ بانگ ہے فلاح کی۔  

جب زخم ہر دل پہ چھلکتا ہے،  

جب خون بہتا ہے تو انقلاب آتا ہے۔  


یہ راستہ آسان نہیں، یہ منزل ہے دشوار،  

پر ہر قدم پر ہے روشن ستارہِ انتظار۔  

جب ہر نفس میں اُٹھے آوازِ حق کی لہر،  

جب خون بہتا ہے تو انقلاب آتا ہے۔  


یہ خون نہیں، یہ شعلہ ہے، یہ چنگاری ہے،  

یہ ظلم کے اندھیروں کو مٹانے والی ہے۔  

جب ہر دل میں اُٹھے موجِ بغاوت کی تڑپ،  

جب خون بہتا ہے تو انقلاب آتا ہے۔  


تو ڈر نہ کسی سے، یہ راہ ہے حق کی،  

یہ خون ہے شہیدوں کا، یہ راستہ ہے پاک۔  

جب ہر قدم پر لہو بولے آزادی کی زبان،  

جب خون بہتا ہے تو انقلاب آتا ہے۔  


خونِ شہیداں سے لکھی جاتی ہے تاریخ،  

یہ قوم کی تقدیر، یہ ملت کی تصویر۔  

جب ہر قطرہ لہو بن جائے شمعِ راہ،  

جب خون بہتا ہے تو انقلاب آتا ہے۔  


یہ خون ہے قیمتی، یہ لہو ہے مقدس،  

یہ ظلم کے خلاف ہے ایک دستِ قاطع۔  

جب ہر زخم سے اُٹھے فریادِ انصاف،  

جب خون بہتا ہے تو انقلاب آتا ہے۔  


تو چل، اُٹھ، اور آگے بڑھ، یہ راہ ہے حق کی،  

یہ خون ہے شہیدوں کا، یہ راستہ ہے پاک۔  

جب ہر دل میں اُٹھے موجِ بغاوت کی تڑپ،  

جب خون بہتا ہے تو انقلاب آتا ہے۔  


خونِ شہیداں سے لکھی جاتی ہے تاریخ،  

یہ قوم کی تقدیر، یہ ملت کی تصویر۔  

جب ہر قطرہ لہو بن جائے شمعِ راہ،  

جب خون بہتا ہے تو انقلاب آتا ہے۔

Waves of emotions

 ساحل کی ریت پہ گر کچھ لکھو تو ہوا مٹا دے،  

مگر دل کے جذبات کی لہریں باقی رہ جائیں۔  

ہر حرف جو ڈوبے سمندر کی گہرائی میں،  

وہ یاد بن کر موجوں کے سینے میں اتر جائے۔  


لکھو تو ستاروں کی روشنی سے لکھو،  

کہ رات کے سناٹے میں بھی چمک باقی رہے۔  

ہر لفظ کو دریا کی لہروں سے سجاؤ،  

کہ وقت کے تھپیڑے بھی اسے مٹا نہ سکیں۔  


ساحل کی ریت پہ لکھو تو محبت لکھو،  

کہ ہر موج اسے اپنے دل میں بسا لے۔  

لکھو تو اُس کی یادوں کے نقوش اُتارو،  

کہ ریت کے ذرّات بھی گواہی دیں۔  


مٹ جائے لکھا ہوا، مگر اثر باقی رہے،  

جیسے سمندر کے کنارے پر موجوں کا نشاں۔  

ساحل کی ریت پہ لکھو تو ایسا لکھو،  

کہ دل کی گہرائیوں تک اُتر جائے۔

Beach sand

 ساحل کی ریت پہ چاندنی بکھری ہوئی ہے،  

ہر ذرہ چمک رہا ہے جیسے ستارہ ٹوٹا ہو۔  

لہروں کی موسیقی دل کو چھو رہی ہے،  

ہر موج ایک نغمہ، ہر صدا ایک سرگوشی۔  


ریت کے ذرات میں چھپی ہیں کہانیاں پرانی،  

ہر قدم پہ ملتا ہے ایک نیا راز۔  

سمندر کی گہرائیوں سے اٹھتی ہے سدا،  

یہ ریت بھی تو ہے دریا کی محبت کا سہرا۔  


پاؤں تلے یہ ریت مٹی کی طرح نرم،  

جیسے وقت کے ہاتھوں نے چھوا ہو اسے۔  

ہر دانہ ایک یاد، ہر ذرہ ایک خواب،  

ساحل کی ریت پہ زندگی کا ہر رنگ جھلکتا ہے۔  


یہ ریت بے زبان ہے مگر بولتی ہے،  

سمندر کے سینے سے لگی ہوئی ہے۔  

ساحل کی ریت پہ چلنا ہے تو سن لو،  

ہر قدم پہ ملے گی ایک نئی داستان۔  


ساحل کی ریت پر گر کچھ لکھو،  

ہر لفظ میں سمندر کی گہرائی سما جائے۔  

یہ ریت ہے تو دریا کی محبت کا نشان،  

ہر ذرہ چمکے گا جیسے چاند کی کرن۔

Beach

 ساحل پر موجوں کا سرور ہے،  

ہر لہر میں ایک نیا رنگ بھر ہے۔  

ریت کے ذرّوں میں چھپی کہانیاں،  

ہر قدم پر دل کو لگتی ہیں تھپکیاں۔  


ہوا کے جھونکے گیت گاتے ہیں،  

ستاروں کی چھاؤں میں رات جگمگاتی ہے۔  

سمندر کی گہرائیوں سے اٹھتی صدا،  

یہ فطرت کا اپنا اندازِ سخن ہے۔  


ساحل پر بیٹھ کر دل کھول دو،  

ہر موج تمہارے دل کی بات کہے گی۔  

یہ دریا، یہ ریت، یہ آسمان کی وسعتیں،  

شاعری کے لیے ایک نئی دنیا لے کر آئیں گی۔

The moon is shining in the sky.

 فلک پر چاند پروسہ، چاندنی کی چادر تانی  

ستاروں کے جھرمٹ میں، رات کی شان بڑھائی  

ہوا کے جھونکوں سے، خوشبوؤں کی بارش ہوئی  

یہ نظم فطرت کی، دل کو چھو جانے والی  


چاند کی کرنیں، پھیلیں دھرتی کے آنگن میں  

جیسے محبت کی باتیں، خاموشی سے کہیں  

رات کی سنجیدگی میں، چاند کا مسکرانا  

یہ نظم دل کی گہرائیوں سے، احساسوں کے ساتھ لکھی  


فلک پر چاند پروسہ، یہ نظم تمہارے نام  

ہر لفظ میں چمکتا، تمہارا پیارا نام  

رات کی خاموشی میں، چاند کی روشنی  

یہ نظم تمہارے لیے، دل کی گہرائیوں سے لکھی

Springs hanging in autumn

 خزاں کے سائے میں جب بہار کی مسکراہٹ چمکتی ہے،  

یہ منظر فطرت کا وہ حسین امتزاج بن جاتا ہے،  

جسے دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔  


پتوں کی سرسراہٹ، ہوا کی تازگی،  

خزاں کے دامن میں بہار کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔  

درختوں کی شاخیں جھومتی ہیں،  

گویا فضا میں بہار کے گیت گنگناتے ہیں۔  


سنہری دھوپ کی کرنیں،  

خزاں کے سائے کو چھوتی ہیں،  

اور ہر طرف ایک نئی رونق بکھیر دیتی ہیں۔  

پیلے پتے، نئی کلیاں،  

یہ کیسا دلکش نظارہ ہے،  

جس میں خزاں اور بہار کا میل نظر آتا ہے۔  


ہر طرف رنگوں کی بہار ہے،  

خزاں کے دامن میں بہار کی آمد کا سماں ہے۔  

یہ موسم اپنے ساتھ امید لے کر آتا ہے،  

کہ ہر خزاں کے بعد بہار ضرور آتی ہے۔  


خزاں میں لٹاتی بہاریں،  

یہ فطرت کا وہ کرشمہ ہے،  

جو ہمیں زندگی کے نشیب و فراز سمجھاتا ہے۔  

ہر موسم اپنے ساتھ ایک پیغام لے کر آتا ہے،  

کہ ہر ختم ہونے والا دن،  

ایک نئی شروعات کا پیغام دیتا ہے۔  


تو خزاں کے سائے میں بہار کی تلاش کر،  

اور ہر پل کو جی بھر کے جی۔  

کیونکہ یہی تو ہے زندگی کا حسن،  

خزاں میں بہار کی خوشبو،  

اور بہار میں خزاں کی یاد۔

Desert Moon


صحرا کا چاند، اُفق پہ جھکا ہوا،  

جیسے ویرانوں کا دل تڑپا ہوا۔  

رات کی چادر میں جگمگاتا رہے،  

تنہائیوں کا ساتھ نبھاتا رہے۔  


ریت کے سمندر پہ تیرتا سا نظر آئے،  

جیسے خوابوں کا جہاز بہتا چلا جائے۔  

ٹھنڈی کرنیں، دل کو چھو جائیں،  

جیسے کسی یاد کی لہر دل میں اتر آئے۔  


صحرا کی خاموشی، چاند کی روشنی،  

مل کر بن جائیں اک عجب کہانی۔  

ہر ذرہ ریت، چمکتا ہوا ستارہ،  

جیسے فضا میں بکھری ہوئی نظارہ۔  


چاندنی میں ڈوبا ہوا صحرا کا منظر،  

جیسے کسی شاعر کا خواب ہو بے خبر۔  

ہر طرف سکوت، ہر طرف خامشی،  

صرف دل کی دھڑکن، صرف تیری یادوں کی روشنی۔  


صحرا کا چاند، تو ہے میرا ہمدم،  

تیری چاندنی میں ڈوب جائے میرا عالم۔  

تیرے سائے میں پاتا ہوں میں سکون،  

جیسے مل جائے کھویا ہوا خوابوں کا مقام۔  


رات گزرتی جائے، چاند ڈھلتا جائے،  

صحرا کی وسعتیں، دل کو بہلاتی جائے۔  

تیری روشنی میں ڈھونڈتا ہوں میں اپنا وجود،  

صحرا کا چاند، تو ہے میرا ہمدم، میرا ہم سفر۔  


Spring in autumn

 خزاں میں لٹاتی بہاریں، یہ کیسا نظارہ ہے  

پتوں کی سرسراہٹ میں گم ہے اک سہارا ہے  


ہوا کے دوش پہ سفر کرتی ہوئی کلیاں  

خزاں کے دامن میں چھپا ہے بہاروں کا نشاں  


سنہری دھوپ کی چادر اوڑھے ہوئے درخت  

خزاں کے سائے میں جگمگاتا ہے بہاروں کا ورق  


یہ موسم کیسا ہے، یہ کیسا جادو ہے  

خزاں کے دامن میں بہاروں کا سلسلہ ہے  


ہر شاخ پہ کلیاں مسکراتی ہوئی نظر آتی ہیں  

خزاں کے سینے میں بہاروں کی دھڑکن سنائی دیتی ہے  


یہ کیسا ہنر ہے، یہ کیسا فن ہے  

خزاں میں لٹاتی بہاریں، یہ کیسا منظر ہے

Prisoner of Faith

 وفا کے قیدی ہیں ہم، اس زنداں میں خوش آئے  

یہ زنجیریں ہیں ہمارے لیے گلہائے رعنائی  


ہر اک لمحہ وفا کا، ہر اک پل عہدِ وفا  

یہی ہے زندگی، یہی ہے مری رہنما  


چراغِ عشق ہے روشن، ہوا چلے نہ بجھے  

وفا کی راہ میں ہر درد سہہ لیں گے ہم  


یہ دل ہے کہ وفا کا دیوانہ ہے  

ہر اک سانس میں وفا کا فسانہ ہے  


نہ کوئی منزل ہے، نہ کوئی انتہا ہے  

وفا ہی راستہ ہے، وفا ہی منزل ہے  


ہر اک درد کو گلے لگاتے ہیں  

وفا کے نام پہ سب کچھ قربان کرتے ہیں  


وفا کا قیدی ہوں، یہی میری پہچان ہے  

ہر اک لمحہ وفا کا، ہر اک سانس وفا کا نام ہے  


یہ زنداں بھی ہے اک جنت، جہاں وفا کی خوشبو بسی ہے  

ہر اک دیوار سے عشق کی داستاں سنائی دیتی ہے  


وفا کے بندھن میں آزادی کا احساس ہے  

یہ قید ہی نہیں، یہ تو اک اعزاز ہے  


ہر اک آنسو میں چھپی ہے اک مسکراہٹ  

ہر اک درد میں ملتی ہے اک نئی راہ  


وفا کے قیدی ہیں ہم، اس زنداں میں خوش آئے  

یہ زنجیریں ہیں ہمارے لیے گلہائے رعنائی  


وفا کا قیدی ہوں، یہی میری پہچان ہے  

ہر اک لمحہ وفا کا، ہر اک سانس وفا کا نام ہے۔

Heartbreaking statement

 دردِ دل کا بیان کرنا ہے مجھے،  

لفظوں میں ڈھالوں کس طرح تجھے؟  

ہر اک سانس میں اک داستاں چھپی ہے،  

ہر اک آنسو میں اک راز پنہاں ہے۔  


دل کے زخم ہیں گہرے، بے شمار ہیں،  

ہر اک زخم میں اک دردِ پریشاں ہے۔  

کبھی خوشی کے لمحے بھی تھے میرے،  

مگر اب تو بس اک سوگوار دل ہے۔  


راتوں کو جب تارے بھی روٹھ جاتے ہیں،  

تنہائی کے سائے مجھے گھیر لیتے ہیں۔  

خوابوں کی دنیا بھی اداس ہو جاتی ہے،  

اور دل کی دھڑکنیں بے چین ہو جاتی ہیں۔  


مگر پھر بھی امید کی کرن ہے باقی،  

دلوں کے اندھیروں میں چمکتی رہتی ہے۔  

شاید کبھی آئے وہ دن روشن بھی،  

جب درد کے بادل چھٹ جائیں گے۔  


دردِ دل کا بیان کرنا ہے مجھے،  

لفظوں میں ڈھالوں کس طرح تجھے؟  

ہر اک سانس میں اک داستاں چھپی ہے،  

ہر اک آنسو میں اک راز پنہاں ہے۔

Pen-carved soldiers

 قلم کے تراشے سپاہی، دل کی زباں لکھ دیں  

رگوں میں اترتی ہوئی، درد کی داستاں لکھ دیں  


یہ چاک گریباں مرا، یہ اشک رواں لکھ دیں  

ہر زخم کی تشریح کو، اک درد نکتہ داں لکھ دیں  


ہر شام کی تنہائی، ہر صبح کا دھواں لکھ دیں  

ہر خواب کی تعبیر کو، اک خوابِ پریشاں لکھ دیں  


یہ دل جو ٹوٹا ہوا ہے، اس کی فغاں لکھ دیں  

یہ آنسوؤں کے قطرے، ان کی روانی لکھ دیں  


قلم کے تراشے سپاہی، دل کی زباں لکھ دیں  

رگوں میں اترتی ہوئی، درد کی داستاں لکھ دیں

Thinking skills

 جب سیکھا قلم

پکڑنا ، تو 

اس دم ہی

یہ فیصلہ کیا

کہ میں بھی

اس سے 

بولنا سیکھونگی

میں اس کی نوک 

پر رکھ کر 

اپنی سوچ

زمانے کے

دماغوں کو 

کریدوں گی

میں دیکھوں گی 

کہ کتنی کاٹ 

رکھتا ہے یہ

میں اپنے لفظوں 

کو کبھی بھی 

مرنے نہیں دونگی

میں اپنی سوچ کو

کبھی بیچوں گی نہیں

میں خیالوں سے

لوگوں کو 

سوچنے کا ہنر

دے کر

اپنے آپ سے

کئے وعدے پورے 

کرونگی ؛!

شمائلہ خان

The pain of separation


**غمِ فرقت نے دل کو چھو لیا ہے**  

**ہر اک سانس میں تیرا دکھ رواں ہے**  


**وہ دن کیا تھے، وہ راتیں کیا تھیں**  

**اب تو ہر لمحہ ویرانیوں کا ساماں ہے**  


**تیرے بغیر یہ گھر اجڑ گیا ہے**  

**ہر دیوار پہ تنہائی کا دھواں ہے**  


**کبھی خوابوں میں آ کر تسلی دے**  

**یہ دل تیرے انتظار میں نڈھال ہے**  


**زمانہ بدل گیا، رنگ بدل گئے**  

**مگر تیری یادوں کا سلسلہ رواں ہے**  


**ابھی تک تیرے لمحوں کی خوشبو**  

**ہوا کے دوش پہ سفر کرتی ہے**  


**یہ دردِ فرقت، یہ غمِ ہجراں**  

**مجھے تیرے بغیر جینے نہیں دیتا**  


Sad separation

 جدائی کا غم دل کو ستاتا ہے ہر دم،  

یہ درد کبھی کم نہیں ہوتا، بس کم ہوتا ہے۔  


ہوا کے دوش پر اڑ گئے وہ لمحے سب،  

جو ساتھ تھے، وہ اب خواب بن کے رہ گئے۔  


چراغِ دل بجھا، اندھیروں نے گھیر لی،  

یہ دوری کا سماں، دل کو کچھ کہے دے رہا ہے۔  


کبھی ہم تھے ساتھ، کبھی راستے جدا ہوئے،  

یہ زندگی ہے، یہاں ہر کوئی اپنے لیے جیے۔  


پر دل کی گہرائیوں میں ایک تڑپ باقی ہے،  

وہ یادوں کا سلسلہ جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔  


جدائی کا غم، یہ ایک ایسا دریا ہے،  

جو بہتا ہے تو دل کو بہا لے جاتا ہے۔  


کاش! کوئی راہ ہو ملن کی، کوئی منزل ہو،  

جہاں پھر سے وہ لمحے، وہ سکون وہ قربت ہو۔  


پر وقت کے سفر میں یہ خواب ہی رہ جاتے ہیں،  

جدائی کا غم، یہی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔

The journey of revolution

 **انقلاب کا سفر**  

یہ راستہ ہے ظلمت کے جنگل کا،  

ہر قدم پہ خاروں کی چبھن ہے۔  

مگر اس کے پار ایک دنیا ہے،  

جہاں روشنی کا سکہ چلتا ہے۔  


ہر زنجیر توڑنے کا وقت ہے،  

ہر غلامی کو مٹانے کا دن ہے۔  

ابھی خوابوں کی تعبیر باقی ہے،  

ابھی انقلاب کا سورج نکلنا ہے۔  


کبھی رات نے ڈرایا ہے ہمیں،  

کبھی طوفانوں نے آزمایا ہے۔  

مگر ہر طوفان کے بعد،  

سکون کی ایک نئی صبح آئی ہے۔  


یہ خون پسینے کی داستان ہے،  

یہ جذبے، یہ ارمانوں کی کہانی ہے۔  

ہر آنسو، ہر مسکراہٹ،  

انقلاب کی ایک نئی نشانی ہے۔  


نہ ڈرو، نہ تھکو، نہ رکو،  

یہ راستہ منزل تک جاتا ہے۔  

ہر قدم پر ایک نئی کہانی،  

انقلاب کا سورج چمکتا ہے۔  


جب ظلم کی چادر تار تار ہو گی،  

جب جبر کی دیواریں گر جائیں گی۔  

تو پھر آزادی کے گیت گائیں گے،  

اور نئے دن کا سورج لائیں گے۔  


یہ انقلاب صرف ایک لفظ نہیں،  

یہ جذبہ ہے، یہ عزم ہے، یہ راستہ ہے۔  

یہ ہر دل کی دھڑکن ہے،  

یہ ہر آنکھ کا خواب ہے۔

Singapore history

 Singapore's history is rich and multifaceted, shaped by its strategic location at the southern tip of the Malay Peninsula. Here's an overview of key periods and events in Singapore's history:


### Early History

- **Pre-Colonial Era**: Singapore's early history is somewhat obscure, but it was known as Temasek, a trading post, as early as the 14th century. It was part of the Srivijaya Empire and later the Majapahit Empire.

- **14th Century**: According to the Malay Annals, Singapore was founded by Sang Nila Utama, a prince from Palembang, who named it "Singapura" (Lion City) after sighting a lion, which he took as a good omen.


### Colonial Period

- **1819**: Sir Stamford Raffles, an official of the British East India Company, established a trading post in Singapore. Recognizing its potential as a strategic port, he negotiated a treaty with the local rulers.

- **1824**: The British gained full control of Singapore through the Anglo-Dutch Treaty, which demarcated spheres of influence in the region.

- **1826**: Singapore became part of the Straits Settlements, along with Penang and Malacca, under British administration.

- **19th Century**: Singapore flourished as a free port, attracting immigrants from China, India, and the Malay Archipelago, leading to a diverse population.


### World War II

- **1942-1945**: During World War II, Singapore was occupied by Japanese forces after the Battle of Singapore in 1942. The occupation was a period of hardship and suffering for the local population.

- **1945**: The Japanese surrendered, and Singapore returned to British control.


### Post-War Period and Road to Independence

- **1946**: Singapore became a separate Crown Colony after the dissolution of the Straits Settlements.

- **1959**: Singapore gained self-governance, with Lee Kuan Yew becoming the first Prime Minister.

- **1963**: Singapore joined the Federation of Malaysia, seeking economic and political stability.

- **1965**: Due to political and racial tensions, Singapore separated from Malaysia and became an independent republic on August 9, 1965.


### Modern Singapore

- **1965-Present**: Under the leadership of Lee Kuan Yew and the People's Action Party (PAP), Singapore transformed from a developing nation to one of the world's most prosperous countries. Key developments include:

  - **Economic Growth**: Rapid industrialization, development of infrastructure, and establishment of a robust financial sector.

  - **Social Policies**: Implementation of public housing, education reforms, and healthcare improvements.

  - **Global Hub**: Singapore became a global hub for trade, finance, and tourism, known for its efficiency and cleanliness.


### Contemporary Singapore

- **21st Century**: Singapore continues to thrive as a global city-state, with a strong emphasis on innovation, education, and sustainability. It faces challenges such as managing a diverse population, ensuring economic resilience, and addressing environmental concerns.


Singapore's history is a testament to its resilience and adaptability, evolving from a small trading post to a thriving modern nation.

Forms of life

   زندگی کے روپ کتنے، ہر گھڑی بدلتے رہے کبھی ہنستے پھول جیسے، کبھی آنسو ڈھلتے رہے کبھی دھوپ کی شدتوں میں جلایا ہمیں وقت نے کبھی چھاؤں بن کے ...

Contact Form

Name

Email *

Message *